عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دھڑکنیں جب میم سے موسوم ہونے لگ گئیں
رمز ہائے کُن سبھی مرقوم ہونے لگ گئیں
دل نے دھک دھک کو درودوں سے عبارت کرلیا
خود بخود سانسیں مِری منظوم ہونے لگ گئیں
کیا وظیفہ تھا بزرگوں کی جماعت کا جنہیں
اَن کہی باتیں بھی سب معلوم ہونے لگ گئیں
آپ کی آمد سے ہر ظُلمت ہوٸی کافُور اور
ساری شر انگیزیاں معدوم ہونے لگ گئیں
جب سے سُنت پر عمل پیرا ہوا ہوں مرتضیٰ
رحمتیں گھِر گھِر مِرا مقسوم ہونے لگ گئیں
مرتضیٰ اشعر
No comments:
Post a Comment