عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ورنہ کب تھی دوستو! شام و سحر میں روشنی
آپﷺ سے آئی جہاں کے بام و در میں روشنی
آپﷺ کی چشمِ عطا سے جگمگا اُٹھے نجوم
نُورِ احمدﷺ سے ہوئی شمس و قمر میں روشنی
جب سے برپا کر رہا ہوں محفلِ میلاد میں
رقص کرتی پھر رہی ہے میرے گھر میں روشنی
تیرگی سے جب نکل جاؤں میں طیبہ کی طرف
ساتھ چلتی ہے سدا میرے سفر میں روشنی
دل منور ہو گیا زاہد! نبیﷺ کی یاد میں
آ گئی اُنؐ سے مِرے فکر و نظر میں روشنی
زاہد شمسی
No comments:
Post a Comment