عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یا رب نفس نفس میں ہے پنہاں تِرا پیام
دنیا کا ذرہ ذرہ کرے ورد تیرا نام
تیرے ہی نور سے ہیں فروزاں مہ و نجوم
روشن ہے آفتاب ہے درخشاں مہِ تمام
سیراب سب ہوئے تِرے زمزم کے فیض سے
لوٹا نہیں ہے در سے تِرے کوئی تشنہ کام
مل جائے مجھ کو ایک ہی سجدہ نصیب سے
گھر میں تِرے جہاں ہے براہیمؑ کا مقام
کر لے قبول ساری دعائیں جو دل میں ہیں
نیناں یہاں سے جائے گی ہرگز نہ تشنہ کام
فرزانہ نیناں
No comments:
Post a Comment