Sunday, 9 July 2023

جس شجر پر ثمر نہیں ہوتا

 جس شجر پر ثمر نہیں ہوتا

اس کو پتھر کا ڈر نہیں ہوتا

آنکھ میں بھی چمک نہیں ہوتی

جب وہ پیش نظر نہیں ہوتا

مے کدے میں یہ ایک خوبی ہے

ناصحا! تیرا ڈر نہیں ہوتا

اب تو بازار بھی ہیں بے رونق

کوئی یوسف ادھر نہیں ہوتا

جو صدف ساحلوں پہ رہ جائے

اس میں کوئی گُہر نہیں ہوتا

آہ تو اب بھی دل سے اٹھتی ہے

لیکن اس میں اثر نہیں ہوتا

غم کے ماروں کا جو بھی مسکن ہو

گھر تو ہوتا ہے، پر نہیں ہوتا

اہلِ دل جو بھی کام کرتے ہیں

اس میں شیطاں کا شر نہیں ہوتا


کرامت بخاری

No comments:

Post a Comment