Sunday, 9 July 2023

کہا کب صنم یا خدا مسئلہ ہے

 کہا کب صنم یا خُدا مسئلہ ہے

زمانے سے اپنا جدا مسئلہ ہے

چراغوں نے مجھ سے بس اتنا کہا تھا

اندھیرے میں اندھی ہوا مسئلہ ہے

تِرا ہاتھ ہاتھوں میں ہو گر ہمارے

کہاں پھر کوئی مسئلہ، مسئلہ ہے

کوئی مسئلہ حل نہ رونے سے ہو گا

ذرا گُنگُنا کر بتا، مسئلہ ہے

پریشاں کھڑا ہوں اسی موڑ پر یوں

پرانا بھی مجھ کو نیا مسئلہ ہے

محبت میں ایسی جگہ ہوں جہاں پر

تِرا مسئلہ بھی مِرا مسئلہ ہے

یہاں جینا لازم وہاں مرنا لازم

فنا مسئلہ ہے، بقاء مسئلہ ہے

فقط نام کا اب ہے ایمان باقی

یقیں مسئلہ ہے، دعا مسئلہ ہے

بلانے پہ میرے وہ کس سادگی سے

اسد پوچھتے ہیں کہ؛ کیا مسئلہ ہے


عمران اسد

No comments:

Post a Comment