لہو میں جسم کو جو تر بہ تر لے کر نہیں آئے
یقیناً نامہ بر اچھی خبر لے کر نہیں آئے
وفا کے بحر میں اک خواہشِ معصوم ڈوبی تھی
ابھی تک لاش ساحل پر بھنور لے کر نہیں آئے
تمہیں کیا ہے جو تنہائی میں ہم آنسو بہاتے ہیں
تمہاری بزم میں تو چشمِ تر لے کر نہیں آئے
لہو میں جسم کو جو تر بہ تر لے کر نہیں آئے
یقیناً نامہ بر اچھی خبر لے کر نہیں آئے
وفا کے بحر میں اک خواہشِ معصوم ڈوبی تھی
ابھی تک لاش ساحل پر بھنور لے کر نہیں آئے
تمہیں کیا ہے جو تنہائی میں ہم آنسو بہاتے ہیں
تمہاری بزم میں تو چشمِ تر لے کر نہیں آئے
یہ جو دنیا ہے تغیر کی عجب وادی ہے
حکم دیتا تھا جو کل آج وہ فریادی ہے
یہ بھی احسان ہے قاتل کا تِرے ورثا پر
اس نے میت تِری دہلیز پہ پہنچا دی ہے
کیا ہوا لوگ اگر بات نہیں کر سکتے
شہر میں گھومنے پھرنے کی تو آزادی ہے
کنارے، سانس کی، سب کشتیاں لگی ہوئی ہیں
چلے بھی آؤ! کہ اب ہچکیاں لگی ہوئی ہیں
کِیا گیا نہیں پیدا اگر غلام ہمیں؟
تو پھر یہ پاؤں میں کیوں بیڑیاں لگی ہوئی ہیں
کبھی کبھی تو تکبّر اّگلنے لگتی ہیں
گھروں پہ ناموں کی جو تختیاں لگی ہوئی ہیں
وہ مسکرا کے مجھے آج تک ملا تو نہیں
کوئی گلاب سرِ شاخِ لب کھلا تو نہیں
گزشتہ شام، تجھے مجھ سے ملنے آنا تھا
بس اک یاد دہانی ہے یہ، گِلہ تو نہیں
میں اپنے عہد پہ پوری طرح سے قائم ہوں
ہے اس کو دور سے دیکھا، کبھی ملا تو نہیں
ہماری موت پہ وہ سوگوار تھوڑی ہے
وہ ہے تو یار، مگر اتنا یار تھوڑی ہے
اسے بھی چُوم لیا کر کبھی محبت سے
ہمارے نام پہ گرد و غبار تھوڑی ہے
بس ایک دو ہیں کسی دن چلے ہی جائیں گے
غموں کی دوستو! لمبی قطار تھوڑی ہے
چاہتوں میں بہت خسارے ہیں
ہم نے رو رو کے دن گزارے ہیں
غم نہیں آپ کی جدائی کا
اور بھی مسئلے ہمارے ہیں
زِیست ناپید تیری گلیوں میں
موت کے اہتمام سارے ہیں
ترا خیال اگر جزوِ زندگی نہ رہے
جہاں میں میرے لیے کوئی دلکشی نہ رہے
میں آ گیا ہوں وہاں تک تری تمنا میں
جہاں سے کوئی بھی امکانِ واپسی نہ رہے
تُو ٹھیک کہتا ہے اے دوست ٹھیک کہتا ہے
کہ ہم ہی قابلِ تجدیدِ دوستی نہ رہے
تُو تو کہتا تھا تجھے اس نے بھلایا ہوا ہے
آج وہ تیرے جنازے میں تو آیا ہوا ہے
اجرتیں مل گئیں صدیوں کے سفر کی مجھ کو
جب کہا اس نے کہ کیا حال بنایا ہوا ہے
ہاتھ میں کوئی تو درویش کے گُر ہے جس نے
گردشِ دوراں کو قدموں میں بٹھایا ہوا ہے