Showing posts with label محمود غزنی. Show all posts
Showing posts with label محمود غزنی. Show all posts

Tuesday, 14 October 2025

لہو میں جسم کو جو تر بہ تر لے کر نہیں آئے

لہو میں جسم کو جو تر بہ تر لے کر نہیں آئے 

یقیناً نامہ بر اچھی خبر لے کر نہیں آئے

وفا کے بحر میں اک خواہشِ معصوم ڈوبی تھی

ابھی تک لاش ساحل پر بھنور لے کر نہیں آئے 

تمہیں کیا ہے جو تنہائی میں ہم آنسو بہاتے ہیں

تمہاری بزم میں تو چشمِ تر لے کر نہیں آئے 

Monday, 12 May 2025

یہ جو دنیا ہے تغیر کی عجب وادی ہے

 یہ جو دنیا ہے تغیر کی عجب وادی ہے

حکم دیتا تھا جو کل آج وہ فریادی ہے

یہ بھی احسان ہے قاتل کا تِرے ورثا پر

اس نے میت تِری دہلیز پہ پہنچا دی ہے

کیا ہوا لوگ اگر بات نہیں کر سکتے

شہر میں گھومنے پھرنے کی تو آزادی ہے

Tuesday, 10 September 2024

کنارے سانس کی سب کشتیاں لگی ہوئی ہیں

 کنارے، سانس کی، سب کشتیاں لگی ہوئی ہیں 

چلے بھی آؤ! کہ اب ہچکیاں لگی ہوئی ہیں 

کِیا گیا نہیں پیدا اگر غلام ہمیں؟ 

تو پھر یہ پاؤں میں کیوں بیڑیاں لگی ہوئی ہیں

کبھی کبھی تو تکبّر اّگلنے لگتی ہیں 

گھروں پہ ناموں کی جو تختیاں لگی ہوئی ہیں 

Sunday, 17 April 2022

وہ مسکرا کے مجھے آج تک ملا تو نہیں

 وہ مسکرا کے مجھے آج تک ملا تو نہیں

کوئی گلاب سرِ شاخِ لب کھلا تو نہیں

گزشتہ شام، تجھے مجھ سے ملنے آنا تھا

بس اک یاد دہانی ہے یہ، گِلہ تو نہیں

میں اپنے عہد پہ پوری طرح سے قائم ہوں

ہے اس کو دور سے دیکھا، کبھی ملا تو نہیں

Tuesday, 8 March 2022

ہماری موت پہ وہ سوگوار تھوڑی ہے

 ہماری موت پہ وہ سوگوار تھوڑی ہے

وہ ہے تو یار، مگر اتنا یار تھوڑی ہے

اسے بھی چُوم لیا کر کبھی محبت سے

ہمارے نام پہ گرد و غبار تھوڑی ہے

بس ایک دو ہیں کسی دن چلے ہی جائیں گے

غموں کی دوستو! لمبی قطار تھوڑی ہے

Friday, 7 May 2021

چاہتوں میں بہت خسارے ہیں

 چاہتوں میں بہت خسارے ہیں

ہم نے رو رو کے دن گزارے ہیں

غم نہیں آپ کی جدائی کا

اور بھی مسئلے ہمارے ہیں

زِیست ناپید تیری گلیوں میں

موت کے اہتمام سارے ہیں

Monday, 7 December 2020

ترا خیال اگر جزو زندگی نہ رہے

 ترا خیال اگر جزوِ زندگی نہ رہے

جہاں میں میرے لیے کوئی دلکشی نہ رہے

میں آ گیا ہوں وہاں تک تری تمنا میں

جہاں سے کوئی بھی امکانِ واپسی نہ رہے

تُو ٹھیک کہتا ہے اے دوست ٹھیک کہتا ہے

کہ ہم ہی قابلِ تجدیدِ دوستی نہ رہے

Saturday, 17 October 2020

تو تو کہتا تھا تجھے اس نے بھلایا ہوا ہے

 تُو تو کہتا تھا تجھے اس نے بھلایا ہوا ہے

آج وہ تیرے جنازے میں تو آیا ہوا ہے

اجرتیں مل گئیں صدیوں کے سفر کی مجھ کو

جب کہا اس نے کہ کیا حال بنایا ہوا ہے

ہاتھ میں کوئی تو درویش کے گُر ہے جس نے

گردشِ دوراں کو قدموں میں بٹھایا ہوا ہے

Friday, 28 August 2020

آگ برستی ہے اب اس کی چھاؤں سے

آگ برستی ہے اب اس کی چھاؤں سے
میں نکلا ہوں چھپ کر اپنے گاؤں سے
جنت میرے سینے میں آ جاتی ہے
جب لگتی ہیں پلکیں ماں کے پاؤں سے
آؤ، ان کو چومیں، ان سے پیار کریں
ہیں مانوس جو بوڑھے ہاتھ دعاؤں سے

اک ملاقات سر راہ سے پہلے مرنا

اک ملاقاتِ سرِ راہ سے پہلے مرنا
کتنا آساں تھا، تِری چاہ سے پہلے مرنا
کیا ضروری ہے بھلا کون سی مجبوری ہے
اک پیادے کا، کسی شاہ سے پہلے مرنا
اپنے ان چارہ گروں کو نہ کوئی دکھ دینا
ہونٹ پر آتی ہوئی، آہ سے پہلے مرنا

قسم خدا کی یہی خوف اب ستائے مجھے

قسم خدا کی یہی خوف اب ستائے مجھے
نہ تیرا قرب کہیں دوریاں دکھائے مجھے
وہ چھوڑنا تو چلو چاہتا تھا، چھوڑ دیا
گلی کے موڑ تلک چھوڑنے تو آئے مجھے
ابھی کہا تو نہیں، سچ میں کہنا والا تھا
تو پھر یہ دار پہ کیوں لوگ کھینچ لائے مجھے

Thursday, 27 August 2020

یہی نہیں کہ ہمیں یار بھول بھال گیا

یہی نہیں کہ ہمیں یار بھول بھال گیا
زمانہ سارا ہی، فردا پہ ہم کو ڈال گیا
دراز قد بھی گرے پستہ قد کے قدموں میں
وہی بڑا ہے جو بارود کو اچھال گیا
زمیں پہ بیٹھ کے گنتے ہیں آؤ سب مل کر
کہ کتنی بھیک ہمیں دے کے پچھلا سال گیا

یہ تبصرہ ہے زمانے کی بیوفائی پر

یہ تبصرہ ہے زمانے کی بے وفائی پر
کہ اعتبار نہیں مجھ کو اپنے بھائی پر
وہی تو شخص یہاں کامیاب ٹھہرا ہے
لگائے قہقہے جو اپنی جگ ہنسائی پر
تُو اپنے شہر میں اک شخص بھی دکھا مجھ کو
جو آج تک نہیں رویا غمِ جدائی پر

پیسے ہوتے تو تجھے لے کے کھلونے دیتا

پیسے ہوتے تو تجھے لے کے کھلونے دیتا
ورنہ کیا میں میرے بچے تجھے رونے دیتا
ہونٹ پر رکھتا ہے انگشتِ شہادت ایسے
بات میری وہ مکمل نہیں ہونے دیتا
ہے تو مفلس وہ مگر اپنی دوائی سے کبھی
خرچ احباب کے پیسے نہیں ہونے دیتا

Wednesday, 26 August 2020

دل اس طرح سپرد صنم کر دیا گیا

دل اس طرح سپردِ صنم کر دیا گیا
قطرے کو جیسے بحر میں ضم کر دیا گیا
پھر کیا رہے گی دامنِ ہستی میں دلکشی
منفی اگر حیات سے غم کر دیا گیا
لکھ کر نہیں کا لفظ لفافے کی پشت پر
خواہش کا سر قلم سے قلم کر ديا گيا

نہ پوچھ کب تیری چاہت کے پیرہن پہنے

نہ پوچھ کب تیری چاہت کے پیرہن پہنے
فراز عرش تھے روحوں نے جب بدن پہنے
کسی کسی نے تو خوشیاں بھی مفت میں پائیں
کسی نے غم کے لبادے بھی قیمتاً پہنے
اسے ذرا بھی میری موت کا ملال نہیں
سیاہ لباس تو وہ شوخ عادتاً پہنے

جو تجھے بھول گیا تو بھی اسے یاد نہ رکھ

جو تجھے بھول گیا تُو بھی اسے یاد نہ رکھ
بہتے پانی پہ تمناؤں کی بنیاد نہ رکھ
چند لمحے مجھے سُکھ کے بھی عنایت کر دے
عمر ساری تو مِرے حال کو برباد نہ رکھ
یہ تِری چپ نہ تِرے درد کا درماں ہو گی
اپنے سینے میں دبا کر کوئی فریاد نہ رکھ

Tuesday, 7 March 2017

اپنی خوشیوں کا قاتل مجھے گردانتے ہیں

اپنی خوشیوں کا قاتل مجھے گردانتے ہیں
میری کوتاہی کو، بچے بھی مِرے جانتے ہیں
بادشاہی کے برابر اسے گردانتے ہیں 
تِری گلیوں کی اگر خاک بھی ہم چھانتے ہیں
دیکھئے کون سا دکھ آتا ہے دروازے پر 
آج کل ہم بھی بہت دل کا کہا مانتے ہیں

خود کش حملے سے مت سوچیں کس کو مارا جا سکتا ہے

خودکش حملے سے مت سوچیں کس کو مارا جا سکتا ہے 
یہ سوچیں، کہ کیسے اپنا دیس سنوارا جا سکتا ہے
کام پہ جانے والے باپ کے سینے سے لگ جاؤ بچو 
لاکھوں میلوں کی دوری پر باپ تمہارا جا سکتا ہے
میں یہ کب کہتا ہوں، آ کر میری موت پہ اشک بہاؤ 
لیکن رونے والوں جیسا، روپ تو دھارا جا سکتا ہے

وہاں بھی کال پڑا پیار کی صداؤں کا

وہاں بھی کال پڑا، پیار کی صداؤں کا 
کل ایک شخص ملا مجھ سے میرے گاؤں کا
بہت ہوا تو یہی نا، کہ ہار جاؤ گے 
مقابلہ تو کرو شہر کے خداؤں کا
یہاں بھی اپنا گزارا نہ ہو سکے شاید 
کہ یہ تو شہر ہی سارا ہے پارساؤں کا