وہ مسکرا کے مجھے آج تک ملا تو نہیں
کوئی گلاب سرِ شاخِ لب کھلا تو نہیں
گزشتہ شام، تجھے مجھ سے ملنے آنا تھا
بس اک یاد دہانی ہے یہ، گِلہ تو نہیں
میں اپنے عہد پہ پوری طرح سے قائم ہوں
ہے اس کو دور سے دیکھا، کبھی ملا تو نہیں
ہزار بار ملا وہ مجھے محبت سے
جو چاک دل میں تھا وہ آج تک سلا تو نہیں
یہ بات سچ ہے کہ برباد ہو گیا ہوں میں
یہ ظلم جس نے کیا، اس کو کچھ ملا تو نہیں
محمود غزنی
No comments:
Post a Comment