لے گئی دہر کو جب زر کی ضیا اور طرف
میں چلا لے کے دیا اور دعا اور طرف
میں کسی اور طرف بھیج رہا تھا، لیکن
لے گئی سانس کے پنچھی کو ہوا اور طرف
اور قریے میں لگی تھی مِرے اظہار کو چپ
ڈھونڈنے نکلا ہوں میں اپنی صدا اور طرف
خواب اک اور طرف کھینچ رہے تھے مجھ کو
غیب کا ہاتھ مجھے لے کے چلا اور طرف
اک سفر، ایک خلا، ایک طرف ختم ہوا
اب کوئی اور سفر، اور خلا، اور طرف
دانیال طریر
No comments:
Post a Comment