نا دریافتہ کُل
قرن ہا قرن بیت گئے
تمہاری تلاش کے ہاتھوں میں
گوہرِ مقصود نہیں آیا
اچھا بتاؤ
کیا تم نے
نا دریافتہ کُل
قرن ہا قرن بیت گئے
تمہاری تلاش کے ہاتھوں میں
گوہرِ مقصود نہیں آیا
اچھا بتاؤ
کیا تم نے
بھوک
بھوک کے بے رحم موسم میں
پیٹ سانس لینے کا ہُنر سیکھ لیتا ہے
یہ جینے کے واسطے
آکٹوپس کی جُون میں آ جاتا ہے
جس کے کثیر دست و پا
دھنک
دھنک اتنی دیر تک نہیں رہتی
جتنی دیر تک
اس کی دید کی یاد
تنہا جگنو
وہ بھی ننھی سی جان
ظِلِ سبحانی
آدم زاد نے
ہم شِیر کا لہو پیا
اور ماں جائی کے کھیت میں
اپنی فصلیں اگائیں
یہ دنیا اس کی جاگیر ہے
جب گیلیلیو نے بتایا تھا
کہ دنیا سورج کے گِرد طواف کرتی ہے
تو راہب اور پروہت اور کاہن
اپنی اپنی زنگ آلود تلواروں کے ساتھ
میدان میں اتر آئے تھے
لیکن پھر سائنس نے بھی ثابت کر دیا
بھاڑے کے ٹٹو
اے شاعر آ دیکھ ذرا
تیرے آقائے بے مثل کے خلفاء نے
کیا بنا دیا ہے
تیرے پُر اسرار بندوں کو
یہ اب میدانِ جنگ سے بھاگے ہوئے