Showing posts with label کوثر جمال. Show all posts
Showing posts with label کوثر جمال. Show all posts

Saturday, 26 February 2022

قرن ہا قرن بیت گئے تمہاری تلاش کے ہاتھوں میں

 نا دریافتہ کُل


قرن ہا قرن بیت گئے

تمہاری تلاش کے ہاتھوں میں

گوہرِ مقصود نہیں آیا

اچھا بتاؤ

کیا تم نے

Thursday, 6 January 2022

بھوک کے بے رحم موسم

 بھوک


بھوک کے بے رحم موسم میں

پیٹ سانس لینے کا ہُنر سیکھ لیتا ہے

یہ جینے کے واسطے

آکٹوپس کی جُون میں آ جاتا ہے

جس کے کثیر دست و پا

Thursday, 23 December 2021

آؤ دھنک سی نظمیں ڈھونڈیں

 دھنک


دھنک اتنی دیر تک نہیں رہتی

جتنی دیر تک

اس کی دید کی یاد

تنہا جگنو

وہ بھی ننھی سی جان

Wednesday, 22 December 2021

آدم زاد نے ہم شیر کا لہو پیا

 ظِلِ سبحانی


آدم زاد نے

ہم شِیر کا لہو پیا

اور ماں جائی کے کھیت میں

اپنی فصلیں اگائیں

یہ دنیا اس کی جاگیر ہے

Tuesday, 21 December 2021

اپنی نگاہ کو آزاد کر دو

 جب گیلیلیو نے بتایا تھا

کہ دنیا سورج کے گِرد طواف کرتی ہے

تو راہب اور پروہت اور کاہن

اپنی اپنی زنگ آلود تلواروں کے ساتھ

میدان میں اتر آئے تھے

لیکن پھر سائنس نے بھی ثابت کر دیا

Saturday, 11 December 2021

بھاڑے کے ٹٹو

 بھاڑے کے ٹٹو


اے شاعر آ دیکھ ذرا

تیرے آقائے بے مثل کے خلفاء نے

کیا بنا دیا ہے

تیرے پُر اسرار بندوں کو

یہ اب میدانِ جنگ سے بھاگے ہوئے