بھوک
بھوک کے بے رحم موسم میں
پیٹ سانس لینے کا ہُنر سیکھ لیتا ہے
یہ جینے کے واسطے
آکٹوپس کی جُون میں آ جاتا ہے
جس کے کثیر دست و پا
فکر و خیال کے پودوں کو
کشتِ ذہن سے اکھاڑ پھینکتے ہیں
یہ احساس کا گلا گھونٹ دیتے ہیں
اور بینائی کی آنکھیں نوچ لیتے ہیں
پیٹ کا آکٹوپس
سانس لینا نہیں بھولتا
یہ پھولنے لگتا ہے
عورت کے حاملہ جسم کی طرح
اور جنم دیتا ہے
“٭مادھو اور گھیسو کو”
کوثر جمال
٭ مادھو، گھیسو؛ پریم چند کے افسانے کفن کے دو کردار
No comments:
Post a Comment