چھوڑ وحشت کا فسانہ دل لگی کی بات کر
چار دن کی زندگی ہے زندگی کی بات کر
کُھل کے کر اقرار اپنی شدتِ جذبات کا
آج تو اے دوست میری دوستی کی بات کر
میری چاہت سے اگر انکار ہے اچھا تو پھر
تُو نے چاہا ہے جسے اچھا، اسی کی بات کر
چھوڑ وحشت کا فسانہ دل لگی کی بات کر
چار دن کی زندگی ہے زندگی کی بات کر
کُھل کے کر اقرار اپنی شدتِ جذبات کا
آج تو اے دوست میری دوستی کی بات کر
میری چاہت سے اگر انکار ہے اچھا تو پھر
تُو نے چاہا ہے جسے اچھا، اسی کی بات کر
سوال
(زینب مبین کے لیے کہی گئی نظم)
وہ اک معصوم کی سسکی
وہ اس کی آخری ہچکی
جو سوئے آسماں پہنچی
خدائی کیوں نہ شرمائی؟
اور ہونا بھی ہے تو کیا ہونا
جب نہ ہونا ہوا مِرا ہونا
بھا گئی مجھ کو بندگی جب سے
بھا گیا تجھ کو بھی خدا ہونا
مجھ کو منظور ہیں ستم تیرے
تِری ضد ہے اگر خفا ہونا
تم بھی سوچتی ہو گی
کیا عجب زمانہ تھا
عشق کا فسانہ تھا
وصل کی کہانی تھی
بات کچھ نئی سی تھی
پیار کے فسانے میں
عشق میں جس کے لیے ہم نے یہ جاں ہاری ہے
اس کی نظروں میں محبت بھی اداکاری ہے
اتنی عجلت میں ہو کیوں، خیر تو ہے؟ کچھ تو کہو
ہائے جاتے ہو کہاں؟ کاہے کی تیاری ہے؟
ایک جانب تو ہے مجبورئ دامانِ وفا
ایک جانب یہ تمنا بھی تو بے چاری ہے
تا کہ امید بندھے اور سہارہ ہو جائے
ایک ہی حل ہے کہ اب عشق دوبارہ ہو جائے
کوئی صورت تو ہو تنہائی میں مل بیٹھنے کی
چارہ گر! آ، کہ غمِ ہجر کا چارہ ہو جائے
کیا کرے کوئی بجز عشق میں مر مٹنے کے
دشمنِ جاں ہی اگر جان سے پیارا ہو جائے
ذرا کچھ عاشقی کا مان رہ جاتا تو اچھا تھا
یہ افسانہ بلا عنوان رہ جاتا تو اچھا تھا
جتانے سے کسی احسان کی وقعت نہیں رہتی
اگر ہم پر تِرا احسان رہ جاتا تو اچھا تھا
صبح بھی ڈھل چکی تھی اور اسے جانے کی عجلت تھی
وہ اک دو پل مِرا مہمان رہ جاتا تو اچھا تھا
ایک مانوس سا منظر
وہی گمنام سا رستہ
وہی پل اور وہی ساعت
وہی ماحول کی خنکی
وہی سردی کی شدت سے لرزتی انگلیاں میری
وہی تصویر پہلے سی
ترکِ الفت کو ہوئی عمر، پہ جاری ضد ہے
یونہی ہر رات عبث نجم شماری ضد ہے
چاہتا ہوں کہ تمہیں روک لوں اک پل کے لیے
ہاں مگر چھوڑ کے جانا جو تمہاری ضد ہے
آنکھ میں اشک ہیں، کچھ جی بھی ہے بوجھل بوجھل
کیفیت کیا جو مِرے دل پہ ہے طاری، ضد ہے
زخم سینے پہ تِرے غم کا سجایا ہوا ہے
بوجھ کاندھوں پہ محبت کا اٹھایا ہوا ہے
اور میں نہیں کرتا کبھی اپنی انا کا سودا
مصلحت ہے جو زرا سر کو جھکایا ہوا ہے
سچے جذبوں کی کسوٹی پہ پرکھنا مجھ کو
میں نے ہر عہد محبت کا نبھایا ہوا ہے
یہ ہم جو روز نئے خواب سے تراشتے ہیں
سبھی سراب خود اپنے لیے تراشتے ہیں
اسے جفا ہو مبارک، ہمیں وفا سے غرض
چلو، وفا کے نئے سلسلے تراشتے ہیں
چمن کا قرض ہے ہم پر، چمن ہمارا ہے
سو شاخ شاخ بڑے شوق سے تراشتے ہیں
برف
دوریوں کے موسم میں
سردیوں کی بارش نے
آگ سی لگا دی ہے
جنوری کی خنکی ہے
حسرتوں کا ڈیرا ہے
دراز
دل برباد کچھ تو وجہ ہو گی
پرانے کاغذوں سے دوستی کی
کوئی مٹتی ہوئی تحریر شاید
کوئی بوسیدہ سی تصویر شاید
کوئی ٹوٹا ہوا وعدہ کسی کا
کسی کو چھوڑ کر جانا کسی کا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
نبیؐ کا نام لکھوں، نور کی کرن پھوٹے
میں نعتِ پاک کہوں، نور کی کِرن پھوٹے
کبھی دعاؤں کا اتنا مقام ہو جائے
کہ عرضِ حال کروں، نور کی کرن پھوٹے
نبیؐ کے ذکر پہ شب روشنی سے بھر جائے
خدا گواہ، کہ یوں نور کی کرن پھوٹے
عین ممکن تھا کہ میں تیری وفا پا جاتا
تُو مجھے چھوڑ نہ جاتا تو تِرا کیا جاتا
اس لیے بھی مِرا غمخوار نہیں ہے کوئی
مجھ سے مطلب کا تعلق نہیں رکھا جاتا
ایسا کر، مجھ کو بھلا دے کہ تجھے چین آ جائے
یوں تِرا ٹوٹنا مجھ سے نہیں دیکھا جاتا