Showing posts with label فیصل ودود. Show all posts
Showing posts with label فیصل ودود. Show all posts

Friday, 22 April 2022

چھوڑ وحشت کا فسانہ دل لگی کی بات کر

 چھوڑ وحشت کا فسانہ دل لگی کی بات کر

چار دن کی زندگی ہے زندگی کی بات کر

کُھل کے کر اقرار اپنی شدتِ جذبات کا

آج تو اے دوست میری دوستی کی بات کر

میری چاہت سے اگر انکار ہے اچھا تو پھر 

تُو نے چاہا ہے جسے اچھا، اسی کی بات کر

Friday, 15 April 2022

قیامت کیوں نہیں آئی

 سوال 

(زینب مبین کے لیے کہی گئی نظم)


وہ اک معصوم کی سسکی

وہ اس کی آخری ہچکی

جو سوئے آسماں پہنچی

خدائی کیوں نہ شرمائی؟

Thursday, 14 April 2022

اور ہونا بھی ہے تو کیا ہونا

 اور ہونا بھی ہے تو کیا ہونا

جب نہ ہونا ہوا مِرا ہونا

بھا گئی مجھ کو بندگی جب سے

بھا گیا تجھ کو بھی خدا ہونا

مجھ کو منظور ہیں ستم تیرے

تِری ضد ہے اگر خفا ہونا

Monday, 11 April 2022

کیا عجب زمانہ تھاعشق کا فسانہ تھا

 تم بھی سوچتی ہو گی

کیا عجب زمانہ تھا

عشق کا فسانہ تھا

وصل کی کہانی تھی

بات کچھ نئی سی تھی

پیار کے فسانے میں

Sunday, 10 April 2022

عشق میں جس کے لئے ہم نے یہ جاں ہاری ہے

 عشق میں جس کے لیے ہم نے یہ جاں ہاری ہے

اس کی نظروں میں محبت بھی اداکاری ہے

اتنی عجلت میں ہو کیوں، خیر تو ہے؟ کچھ تو کہو

ہائے جاتے ہو کہاں؟ کاہے کی تیاری ہے؟

ایک جانب تو ہے مجبورئ دامانِ وفا

ایک جانب یہ تمنا بھی تو بے چاری ہے

Saturday, 9 April 2022

تا کہ امید بندھے اور سہارا ہو جائے

 تا کہ امید بندھے اور سہارہ ہو جائے

ایک ہی حل ہے کہ اب عشق دوبارہ ہو جائے

کوئی صورت تو ہو تنہائی میں مل بیٹھنے کی

چارہ گر! آ، کہ غمِ ہجر کا چارہ ہو جائے

کیا کرے کوئی بجز عشق میں مر مٹنے کے

دشمنِ جاں ہی اگر جان سے پیارا ہو جائے

Monday, 21 March 2022

ذرا کچھ عاشقی کا مان رہ جاتا تو اچھا تھا

 ذرا کچھ عاشقی کا مان رہ جاتا تو اچھا تھا

یہ افسانہ بلا عنوان رہ جاتا تو اچھا تھا

جتانے سے کسی احسان کی وقعت نہیں رہتی

اگر ہم پر تِرا احسان رہ جاتا تو اچھا تھا

صبح بھی ڈھل چکی تھی اور اسے جانے کی عجلت تھی

وہ اک دو پل مِرا مہمان رہ جاتا تو اچھا تھا

Monday, 3 January 2022

تمہاری سیٹ خالی ہے

 ایک مانوس سا منظر


وہی گمنام سا رستہ

وہی پل اور وہی ساعت

وہی ماحول کی خنکی

وہی سردی کی شدت سے لرزتی انگلیاں میری

وہی تصویر پہلے سی

Friday, 31 December 2021

ترک الفت کو ہوئی عمر پہ جاری ضد ہے

 ترکِ الفت کو ہوئی عمر، پہ جاری ضد ہے

یونہی ہر رات عبث نجم شماری ضد ہے

چاہتا ہوں کہ تمہیں روک لوں اک پل کے لیے

ہاں مگر چھوڑ کے جانا جو تمہاری ضد ہے

آنکھ میں اشک ہیں، کچھ جی بھی ہے بوجھل بوجھل

کیفیت کیا جو مِرے دل پہ ہے طاری، ضد ہے

Saturday, 25 December 2021

زخم سینے پہ ترے غم کا سجایا ہوا ہے

 زخم سینے پہ تِرے غم کا سجایا ہوا ہے

بوجھ کاندھوں پہ محبت کا اٹھایا ہوا ہے

اور میں نہیں کرتا کبھی اپنی انا کا سودا

مصلحت ہے جو زرا سر کو جھکایا ہوا ہے

سچے جذبوں کی کسوٹی پہ پرکھنا مجھ کو

میں نے ہر عہد محبت کا نبھایا ہوا ہے

Friday, 24 December 2021

یہ ہم جو روز نئے خواب سے تراشتے ہیں

 یہ ہم جو روز نئے خواب سے تراشتے ہیں

سبھی سراب خود اپنے لیے تراشتے ہیں

اسے جفا ہو مبارک، ہمیں وفا سے غرض

چلو، وفا کے نئے سلسلے تراشتے ہیں

چمن کا قرض ہے ہم پر، چمن ہمارا ہے

سو شاخ شاخ بڑے شوق سے تراشتے ہیں

Friday, 17 December 2021

برف دوریوں کے موسم میں

 برف


دوریوں کے موسم میں

سردیوں کی بارش نے

آگ سی لگا دی ہے

جنوری کی خنکی ہے

حسرتوں کا ڈیرا ہے

Thursday, 16 December 2021

دل برباد کچھ تو وجہ ہو گی

 دراز


دل برباد کچھ تو وجہ ہو گی

پرانے کاغذوں سے دوستی کی

کوئی مٹتی ہوئی تحریر شاید

کوئی بوسیدہ سی تصویر شاید

کوئی ٹوٹا ہوا وعدہ کسی کا

کسی کو چھوڑ کر جانا کسی کا

Wednesday, 15 December 2021

نبی کا نام لکھوں نور کی کرن پھوٹے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


نبیؐ کا نام لکھوں، نور کی کرن پھوٹے

میں نعتِ پاک کہوں، نور کی کِرن پھوٹے

کبھی دعاؤں کا اتنا مقام ہو جائے

کہ عرضِ حال کروں، نور کی کرن پھوٹے

نبیؐ کے ذکر پہ شب روشنی سے بھر جائے

خدا گواہ، کہ یوں نور کی کرن پھوٹے

Tuesday, 14 December 2021

عین ممکن تھا کہ میں تیری وفا پا جاتا

 عین ممکن تھا کہ میں تیری وفا پا جاتا

تُو مجھے چھوڑ نہ جاتا تو تِرا کیا جاتا

اس لیے بھی مِرا غمخوار نہیں ہے کوئی

مجھ سے مطلب کا تعلق نہیں رکھا جاتا

ایسا کر، مجھ کو بھلا دے کہ تجھے چین آ جائے

یوں تِرا ٹوٹنا مجھ سے نہیں دیکھا جاتا