Sunday, 10 April 2022

عشق میں جس کے لئے ہم نے یہ جاں ہاری ہے

 عشق میں جس کے لیے ہم نے یہ جاں ہاری ہے

اس کی نظروں میں محبت بھی اداکاری ہے

اتنی عجلت میں ہو کیوں، خیر تو ہے؟ کچھ تو کہو

ہائے جاتے ہو کہاں؟ کاہے کی تیاری ہے؟

ایک جانب تو ہے مجبورئ دامانِ وفا

ایک جانب یہ تمنا بھی تو بے چاری ہے

تم سے اظہارِ محبت بھی بھلا کیسے کریں؟

اپنی عزت بھی تو اے دوست! ہمیں پیاری ہے

کٹ گئی عمر طوافِ درِ جاناں میں ودود

اب بھی آشفتہ سری کا یہ سفر جاری ہے


فیصل ودود

No comments:

Post a Comment