Sunday, 10 April 2022

بھلے ہی ہست سے نابود ہوتا

 بھلے ہی ہست سے نابود ہوتا 

زیاں میرا کسی کا سود ہوتا 

میں جس کی آرزو میں مر رہا ہوں 

تصور میں تو وہ موجود ہوتا 

جمی ہے مصلحت کی برف ورنہ 

ہمارا حوصلہ بارود ہوتا 

ہوس کیونکر تمہیں بے چین کرتی 

سکون دل اگر مقصود ہوتا 

جو ہم کرتے نہ عزم حق نوائی 

امیر شہر کیوں نمرود ہوتا 

حسد کا تیل ہے تیرے دیے میں 

اجالا تو نہ ہوتا دود ہوتا 

طلسم آباد ہے شہر تخیل 

جسے میں سوچتا مشہود ہوتا 

خلش مسلک ہے آفاقی ہمارا 

کسی سرحد میں کیوں محدود ہوتا 


اقبال خلش

No comments:

Post a Comment