Sunday, 10 April 2022

میں نے تمہارا اسم پڑھا دل پہ دم کیا

 میں نے تمہارا اسم پڑھا دل پہ دم کیا

کیا کیا درونِ ذات سے رستے نکل پڑے

جانے یہ عشق ہے یا محبت ہے روگ ہے

اکثر بغیر کام کے ہی گھر سے چل پڑے

وحشت زدہ ہیں لوگ پھٹکتے نہیں ادھر

جیسے ہماری ذات کے رستے میں تھل پڑے

کیا اِس سے بڑھ کے پنج تنی کا ثبوت دوں

تم نے کہا حسین اور آنسو نکل پڑے

دل نے تمہارا نام سنا یوں دھڑک اٹھا

جیسے خوشی کی بات پہ بچہ اچھل پڑے


عمران عاشر

No comments:

Post a Comment