دہکتی آگ کو جب خاک پر اتارا گیا
ہمیں پکارا گیا، اور بہت پکارا گیا
ہمارا اور تمہارا ملال ایک سا ہے
اِدھر چراغ بُجھا اور اُدھر ستارا گیا
بہت خلوص سے تُو نے عطا کیا تھا جو
وہ ایک خواب بھی مجھ سے نہیں گزارا گیا
دہکتی آگ کو جب خاک پر اتارا گیا
ہمیں پکارا گیا، اور بہت پکارا گیا
ہمارا اور تمہارا ملال ایک سا ہے
اِدھر چراغ بُجھا اور اُدھر ستارا گیا
بہت خلوص سے تُو نے عطا کیا تھا جو
وہ ایک خواب بھی مجھ سے نہیں گزارا گیا
میں تنگ ہوں نہ میرا خریدار تنگ ہے
دل کے معاملات میں بازار تنگ ہے
اس کی ہنسی سماتی نہیں ہے فریم میں
تصویر کے حساب سے دیوار تنگ ہے
یہ دل کسی کی ماننے والا نہیں میاں
اس بدلحاظ شخص سے ہر یار تنگ ہے
بدن سے روح تک سرشار ہوں میں
محبت کے لیے تیار ہوں میں
تُو آئے گا تو دروازہ بنوں گا
ابھی، دیوار ہی دیوار ہوں میں
مِری حالت، عجب حالت ہے میری
ابھی خوش ہوں، ابھی بیزار ہوں میں
ہنس رہے ہو، ہنسا رہے ہو تم
خواب کس کو دکھا رہے ہو تم
کبھی آواز اور کبھی سایا
سلسلہ وار آ رہے ہو تم
خود کو بھی آج میں نے دیکھ لیا
اس قدر جگمگا رہے ہو تم
اب خود سے بھی بچنے کی میں تدبیر کروں گا
ڈر یہ ہے کہ اس بار بھی تاخیر کروں گا
لکھوں گا تِرے جانے سے شاداب ہوا میں
اور تیرا پلٹ آنا بھی تحریر کروں گا
آسان نہیں اپنی طرف لوٹ کے آنا
دنیا! میں بہر طور یہ تدبیر کروں گا
دل پہ ہے کس کا اجارہ سائیں
ہو گیا عشق دوبارہ سائیں
مرنے والے کو بھی اور خود کو بھی
میں نے مٹی میں اُتارا سائیں
اب بھی دشمن سے تو ہے میل ملاپ
کر لیا خود سے کنارا سائیں
شروع کارِ محبت تو کر کہیں سے بھی
کہ میرا کام چلے گا تِری نہیں سے بھی
یہاں کسی نے بھی مجھ کو گلے لگایا نہیں
مکان سے بھی گِلہ ہے مجھے مکیں سے بھی
اب ان کو تیسرا رستا کوئی دیا جائے
یہ لوگ تنگ ہیں دنیا سے اور دِیں سے بھی