Showing posts with label کاشف مجید. Show all posts
Showing posts with label کاشف مجید. Show all posts

Thursday, 16 February 2023

دہکتی آگ کو جب خاک پر اتارا گیا

دہکتی آگ کو جب خاک پر اتارا گیا

ہمیں پکارا گیا، اور بہت پکارا گیا

ہمارا اور تمہارا ملال ایک سا ہے

اِدھر چراغ بُجھا اور اُدھر ستارا گیا

بہت خلوص سے تُو نے عطا کیا تھا جو

وہ ایک خواب بھی مجھ سے نہیں گزارا گیا

Friday, 22 October 2021

میں تنگ ہوں نہ میرا خریدار تنگ ہے

 میں تنگ ہوں نہ میرا خریدار تنگ ہے

دل کے معاملات میں بازار تنگ ہے

اس کی ہنسی سماتی نہیں ہے فریم میں

تصویر کے حساب سے دیوار تنگ ہے

یہ دل کسی کی ماننے والا نہیں میاں

اس بدلحاظ شخص سے ہر یار تنگ ہے

Friday, 28 May 2021

بدن سے روح تک سرشار ہوں میں

 بدن سے روح تک سرشار ہوں میں

محبت کے لیے تیار ہوں میں

تُو آئے گا تو دروازہ بنوں گا

ابھی، دیوار ہی دیوار ہوں میں

مِری حالت، عجب حالت ہے میری

ابھی خوش ہوں، ابھی بیزار ہوں میں

Thursday, 27 May 2021

ہنس رہے ہو ہنسا رہے ہو تم

 ہنس رہے ہو، ہنسا رہے ہو تم

خواب کس کو دکھا رہے ہو تم

کبھی آواز اور کبھی سایا

سلسلہ وار آ رہے ہو تم

خود کو بھی آج میں نے دیکھ لیا

اس قدر جگمگا رہے ہو تم

Tuesday, 25 May 2021

اب خود سے بھی بچنے کی میں تدبیر کروں گا

 اب خود سے بھی بچنے کی میں تدبیر کروں گا

ڈر یہ ہے کہ اس بار بھی تاخیر کروں گا

لکھوں گا تِرے جانے سے شاداب ہوا میں

اور تیرا پلٹ آنا بھی تحریر کروں گا

آسان نہیں اپنی طرف لوٹ کے آنا

دنیا! میں بہر طور یہ تدبیر کروں گا

Monday, 24 May 2021

دل پہ ہے کس کا اجارہ سائیں

 دل پہ ہے کس کا اجارہ سائیں

ہو گیا عشق دوبارہ سائیں

مرنے والے کو بھی اور خود کو بھی

میں نے مٹی میں اُتارا سائیں

اب بھی دشمن سے تو ہے میل ملاپ

کر لیا خود سے کنارا سائیں

Sunday, 31 January 2021

شروع کارِ محبت تو کر کہیں سے بھی

 شروع کارِ محبت تو کر کہیں سے بھی

کہ میرا کام چلے گا تِری نہیں سے بھی

یہاں کسی نے بھی مجھ کو گلے لگایا نہیں

مکان سے بھی گِلہ ہے مجھے مکیں سے بھی

اب ان کو تیسرا رستا کوئی دیا جائے

یہ لوگ تنگ ہیں دنیا سے اور دِیں سے بھی