Showing posts with label قتیل شفائی. Show all posts
Showing posts with label قتیل شفائی. Show all posts

Saturday, 29 March 2025

آؤ کوئی تفریح کا سامان کیا جائے

 آؤ کوئی تفریح کا سامان کیا جائے

پھر سے کسی واعظ کو پریشان کیا جائے

بے لغزشِ پا مست ہوں اُن آنکھوں سے پی کر

یوں محتسبِ شہر کو حیران کیا جائے

ہر شے سے مقدس ہے خیالات کا رشتہ

کیوں مصلحتوں پر اسے قربان کیا جائے

Sunday, 26 May 2024

زنجیریں جب ٹوٹیں گی جھنکار تو ہو گی

 ایفروایشیائی نغمہ


زنجیریں جب ٹوٹیں گی جھنکار تو ہو گی

صدیوں کی سوئی دنیا بیدار تو ہو گی


پھیلے ہوئے اس دھرتی پر ہیں لوگ جہاں تک

پہنچے گی زنجیروں کی جھنکار وہاں تک

دنیا جاگی تو کوئی محکوم نہ ہو گا

کوئی وطن آزادی سے محروم نہ ہو گا

Tuesday, 21 May 2024

دل لگا بیٹھا ہوں لاہور کے ہنگاموں سے

 دل لگا بیٹھا ہوں لاہور کے ہنگاموں سے

پیار ہے پھر بھی ہری پور، تِری شاموں سے

کبھی آندھی، کبھی شعلہ، کبھی نغمہ، کبھی رنگ

اپنا ماضی مجھے یاد آئے کئی ناموں سے

ایک وہ دن کہ بناں دید تڑپ جاتے تھے

ایک یہ دن کہ بہل جاتے ہیں پیغاموں سے

Monday, 13 May 2024

گھڑی بھر کے لیے مر کر ابد تک جینے آتے ہیں

 شہانِ کربلا


گھڑی بھر کے لیے مر کر ابد تک جینے آتے ہیں

مجاہد جب کبھی جامِ شہادت پینے آتے ہیں

دکھانے قاتلوں کو ان کے چہرے پیغمبر

لیے ہاتھوں میں اپنے خون کے آئینے آتے ہیں

اک ایسے اوج پر مینار ہے شوقِ شہادت کا

جہاں قربانیوں کے زینے آتے ہیں

Thursday, 9 May 2024

قسم ہے ہمیں اپنے تازہ لہو کی

 نیا عہد نامہ


قسم ہے ہمیں اپنے تازہ لہو کی

قسم زندگی کی، قسم آبرو کی

گھر اپنا کسی کو جلانے نہ دیں گے

وطن پر کبھی آنچ آنے نہ دیں گے

سدا ہم رہیں گے وطن کے نگہباں

وطن اپنا کعبہ، وطن اپنا ایماں

Sunday, 13 August 2023

سدا مہکتی رہے وہ مٹی اٹھا ہے جس سے خمیر اپنا

 ہر ایک ذرے کی دلکشی میں، دمک رہا ہے ضمیر اپنا

سدا مہکتی رہے وہ مٹی، اٹھا ہے جس سے خمیر اپنا

بنی ہوئی ہیں نشانِ منزل تمام تر اس کی شاہرائیں

جواب رکھتا نہیں جہاں میں، یہ خطۂ بے نظیر اپنا

مِرے بھٹکنے کا زندگی بھر، نہیں کوئی احتمال یارو

کہ میں نے اس دشت کی ہوا کو بنا لیا دستگیر اپنا

Wednesday, 7 June 2023

نظر نظر میں وہ نور یقیں تھے تب بھی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نظر نظر میں وہ نورِ یقیں تھے تب بھی

وہ جب رسولِ خفی تھے امیں تھے تب بھی

اگرچہ قبلِ رسالت بس اِک بشر تھے وہ

قبیلے بھر میں مگر بہترین تھے تب بھی

جب اُنؐ کا شہر بھرا تھا کئی خداؤں سے

عقائد اُنؐ کے بہت دلنشیں تھے تب بھی

Monday, 26 December 2022

ہر شے سے بیگانہ اچھا

 ہر شے سے بیگانہ اچھا

لوگو! میں دیوانہ اچھا

ہم سب پر جو بیت چکی ہے

اس کا بھول ہی جانا اچھا

جس ماحول میں ہم زندہ ہیں

اس سے تو مر جانا اچھا

Saturday, 24 December 2022

مرحلہ رات کا جب آئے گا

 مرحلہ رات کا جب آئے گا

جسم سائے کو ترس جائے گا

چل پڑی رسم جو کج فہمی کی

بات کیا پھر کوئی کر پائے گا

سچ سے کترائے اگر لوگ یہاں

لفظ مفہوم سے کترائے گا

Thursday, 22 December 2022

چیت کی راتیں یاد کرو

 چیت کی راتیں یاد کرو

نکھرا تھا جب چاند کا چہرہ

بِکھرا تھا کرنوں کا صحرا

گائے تھے جب گیت ہوا نے

آئے تھے تم نیند چرانے

بُھولی باتیں یاد کرو

Wednesday, 21 December 2022

مل جل کے برہنہ جسے دنیا نے کیا ہے

 مل جل کے برہنہ جسے دنیا نے کیا ہے

اس درد نے اب میرا بدن اوڑھ لیا ہے

میں ریت کے دریا پہ کھڑا سوچ رہا ہوں

اس شہر میں پانی تو یزیدوں نے پیا ہے

اے گورکنو! قبر کا دے کر مجھے دھوکا

تم نے تو خلاؤں میں مجھے گاڑ دیا ہے

Wednesday, 14 December 2022

آ جائے کسی دن، تو ایسا بھی نہیں لگتا

 آ جائے کسی دن، تو ایسا بھی نہیں لگتا

لیکن وہ تیرا وعدہ، جھوٹا بھی نہیں لگتا

ملتا ہے سکوں دل کو، اس یار کے کوچے میں

ہر روز مگر جانا بھی، اچھا نہیں لگتا

دیکھا ہے تجھے جب سے، بے چین بہت ہے دل

کہنے کو کوئی تجھ سے، رشتہ بھی نہیں لگتا

Wednesday, 9 November 2022

سانولے جسم کی ہر قوس میں لہراتا ہے

 سانولی


سانولے جسم کی ہر قوس میں لہراتا ہے

مسکراتی ہوئی شاموں کا سلونا جادو

رقص کرتی ہے تیرے حُسن کی رعنائی میں

وادئ نجد کے جھونکوں کی لجیلی خوشبو

یہ تیرے دوش پہ بل کھا کے بکھرتی زُلفیں

جیسے معبد میں سلگتے ہوئے صندل کا دُھواں

Friday, 14 October 2022

دنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں

 گیت/غزل


دنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں

اک دلربا ہے دل میں، جو حوروں سے کم نہیں


تم بادشاہِ حُسنِ ہو حُسنِ جہاں ہو

جانِ وفا ہو اور محبت کی شان ہو

جلوے تمہارے حُسن کے تاروں سے کم نہیں

Friday, 30 September 2022

دل میں طوفان چھپائے بیٹھا ہوں

 فلمی گیت 


دل میں طوفان چھپائے بیٹھا ہوں

یہ نہ سمجھو کہ مجھ کو پیار نہیں

تم جو آئے ہو میری دنیا میں

اب کسی کا مجھ کو انتظار نہیں


میری قسمت کے تم ستارے ہو 

زندگی سے بھی مجھ کو پیارے ہو 

Wednesday, 28 September 2022

گوری کیوں ہے تو بیکل ترے گھنگھرو ٹوٹ گئے تو کیا

 فلمی گیت 


گوری کیوں ہے تُو بے کل، تِرے گھنگھرو ٹُوٹ گئے تو کیا

ناچ اری تُو بِن پائل، تِرے گھنگھرو ٹوٹ گئے تو کیا


پائل نے کب گیت بکھیرے

اصلی چیز ہیں پاؤں تیرے

تھِرکیں گے جب تیرے پاؤں

بچے گا کوئی شہر نہ گاؤں

Sunday, 18 September 2022

نگاہیں ملا کر بدل جانے والے

 فلمی گیت 


نگاہیں ملا کر بدل جانے والے 

مجھے تجھ سے کوئی شکایت نہیں ہے

یہ دنیا بڑی سنگدل ہے یہاں پر 

کسی کو کسی سے محبت نہیں ہے


جفاؤں سے تُو نے میرے دل کو توڑا

مجھے تُو نے ظالم کہیں کا نہ چھوڑا

Saturday, 17 September 2022

نہیں کہ صرف ستاروں کے نم تھے نین حسین

 عارفانہ کلام منقبت سلام


نہیں کہ صرف ستاروں کے نم تھے نین حسینؑ

ہوائیں بھی تو کئے جارہی تھیں بین حسینؑ

بس اک بار تِری لاش اس پہ تڑپی تھی

پھر اس کے بعد زمیں کو ملا نہ چین حسینؑ

رضائے حق پہ تِرا سارا خاندان لُٹا

ہوا کہیں کوئی غوغا، نہ شور و شین حسینؑ

Saturday, 13 August 2022

اے پیارے لوگو سجدے میں جا کے مانگو دعا یہ خدا سے

 ملی/قومی گیت/نغمہ


اے پیارے لوگو! سجدے میں جا کے

مانگو دعا یہ خدا سے

خاکِ وطن کو سیراب کر دے

اپنے کرم کی گھٹا سے


کتنی حسیں پیار کی یہ زمیں ہے

اس کا زمانے میں ثانی نہیں ہے

Monday, 11 July 2022

یوں آ رہا ہے آج لبوں پر کسی کا نام

 یوں آ رہا ہے آج لبوں پر کسی کا نام

ہم پڑھ رہے ہوں جیسے چھپا کر کسی کا نام

سُنسان یوں تو کب سے ہے کُہسارِ باز دِید

کانوں میں گونجتا ہے برابر کسی کا نام

دی ہم نے اپنی جان، تو قاتِل بنا کوئی

مشہور اپنے دم سے ہے گھر گھر کسی کا نام