آؤ کوئی تفریح کا سامان کیا جائے
پھر سے کسی واعظ کو پریشان کیا جائے
بے لغزشِ پا مست ہوں اُن آنکھوں سے پی کر
یوں محتسبِ شہر کو حیران کیا جائے
ہر شے سے مقدس ہے خیالات کا رشتہ
کیوں مصلحتوں پر اسے قربان کیا جائے
آؤ کوئی تفریح کا سامان کیا جائے
پھر سے کسی واعظ کو پریشان کیا جائے
بے لغزشِ پا مست ہوں اُن آنکھوں سے پی کر
یوں محتسبِ شہر کو حیران کیا جائے
ہر شے سے مقدس ہے خیالات کا رشتہ
کیوں مصلحتوں پر اسے قربان کیا جائے
ایفروایشیائی نغمہ
زنجیریں جب ٹوٹیں گی جھنکار تو ہو گی
صدیوں کی سوئی دنیا بیدار تو ہو گی
پھیلے ہوئے اس دھرتی پر ہیں لوگ جہاں تک
پہنچے گی زنجیروں کی جھنکار وہاں تک
دنیا جاگی تو کوئی محکوم نہ ہو گا
کوئی وطن آزادی سے محروم نہ ہو گا
دل لگا بیٹھا ہوں لاہور کے ہنگاموں سے
پیار ہے پھر بھی ہری پور، تِری شاموں سے
کبھی آندھی، کبھی شعلہ، کبھی نغمہ، کبھی رنگ
اپنا ماضی مجھے یاد آئے کئی ناموں سے
ایک وہ دن کہ بناں دید تڑپ جاتے تھے
ایک یہ دن کہ بہل جاتے ہیں پیغاموں سے
شہانِ کربلا
گھڑی بھر کے لیے مر کر ابد تک جینے آتے ہیں
مجاہد جب کبھی جامِ شہادت پینے آتے ہیں
دکھانے قاتلوں کو ان کے چہرے پیغمبر
لیے ہاتھوں میں اپنے خون کے آئینے آتے ہیں
اک ایسے اوج پر مینار ہے شوقِ شہادت کا
جہاں قربانیوں کے زینے آتے ہیں
نیا عہد نامہ
قسم ہے ہمیں اپنے تازہ لہو کی
قسم زندگی کی، قسم آبرو کی
گھر اپنا کسی کو جلانے نہ دیں گے
وطن پر کبھی آنچ آنے نہ دیں گے
سدا ہم رہیں گے وطن کے نگہباں
وطن اپنا کعبہ، وطن اپنا ایماں
ہر ایک ذرے کی دلکشی میں، دمک رہا ہے ضمیر اپنا
سدا مہکتی رہے وہ مٹی، اٹھا ہے جس سے خمیر اپنا
بنی ہوئی ہیں نشانِ منزل تمام تر اس کی شاہرائیں
جواب رکھتا نہیں جہاں میں، یہ خطۂ بے نظیر اپنا
مِرے بھٹکنے کا زندگی بھر، نہیں کوئی احتمال یارو
کہ میں نے اس دشت کی ہوا کو بنا لیا دستگیر اپنا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نظر نظر میں وہ نورِ یقیں تھے تب بھی
وہ جب رسولِ خفی تھے امیں تھے تب بھی
اگرچہ قبلِ رسالت بس اِک بشر تھے وہ
قبیلے بھر میں مگر بہترین تھے تب بھی
جب اُنؐ کا شہر بھرا تھا کئی خداؤں سے
عقائد اُنؐ کے بہت دلنشیں تھے تب بھی
ہر شے سے بیگانہ اچھا
لوگو! میں دیوانہ اچھا
ہم سب پر جو بیت چکی ہے
اس کا بھول ہی جانا اچھا
جس ماحول میں ہم زندہ ہیں
اس سے تو مر جانا اچھا
مرحلہ رات کا جب آئے گا
جسم سائے کو ترس جائے گا
چل پڑی رسم جو کج فہمی کی
بات کیا پھر کوئی کر پائے گا
سچ سے کترائے اگر لوگ یہاں
لفظ مفہوم سے کترائے گا
چیت کی راتیں یاد کرو
نکھرا تھا جب چاند کا چہرہ
بِکھرا تھا کرنوں کا صحرا
گائے تھے جب گیت ہوا نے
آئے تھے تم نیند چرانے
بُھولی باتیں یاد کرو
مل جل کے برہنہ جسے دنیا نے کیا ہے
اس درد نے اب میرا بدن اوڑھ لیا ہے
میں ریت کے دریا پہ کھڑا سوچ رہا ہوں
اس شہر میں پانی تو یزیدوں نے پیا ہے
اے گورکنو! قبر کا دے کر مجھے دھوکا
تم نے تو خلاؤں میں مجھے گاڑ دیا ہے
آ جائے کسی دن، تو ایسا بھی نہیں لگتا
لیکن وہ تیرا وعدہ، جھوٹا بھی نہیں لگتا
ملتا ہے سکوں دل کو، اس یار کے کوچے میں
ہر روز مگر جانا بھی، اچھا نہیں لگتا
دیکھا ہے تجھے جب سے، بے چین بہت ہے دل
کہنے کو کوئی تجھ سے، رشتہ بھی نہیں لگتا
سانولی
سانولے جسم کی ہر قوس میں لہراتا ہے
مسکراتی ہوئی شاموں کا سلونا جادو
رقص کرتی ہے تیرے حُسن کی رعنائی میں
وادئ نجد کے جھونکوں کی لجیلی خوشبو
یہ تیرے دوش پہ بل کھا کے بکھرتی زُلفیں
جیسے معبد میں سلگتے ہوئے صندل کا دُھواں
گیت/غزل
دنیا کسی کے پیار میں جنت سے کم نہیں
اک دلربا ہے دل میں، جو حوروں سے کم نہیں
تم بادشاہِ حُسنِ ہو حُسنِ جہاں ہو
جانِ وفا ہو اور محبت کی شان ہو
جلوے تمہارے حُسن کے تاروں سے کم نہیں
فلمی گیت
دل میں طوفان چھپائے بیٹھا ہوں
یہ نہ سمجھو کہ مجھ کو پیار نہیں
تم جو آئے ہو میری دنیا میں
اب کسی کا مجھ کو انتظار نہیں
میری قسمت کے تم ستارے ہو
زندگی سے بھی مجھ کو پیارے ہو
فلمی گیت
گوری کیوں ہے تُو بے کل، تِرے گھنگھرو ٹُوٹ گئے تو کیا
ناچ اری تُو بِن پائل، تِرے گھنگھرو ٹوٹ گئے تو کیا
پائل نے کب گیت بکھیرے
اصلی چیز ہیں پاؤں تیرے
تھِرکیں گے جب تیرے پاؤں
بچے گا کوئی شہر نہ گاؤں
فلمی گیت
نگاہیں ملا کر بدل جانے والے
مجھے تجھ سے کوئی شکایت نہیں ہے
یہ دنیا بڑی سنگدل ہے یہاں پر
کسی کو کسی سے محبت نہیں ہے
جفاؤں سے تُو نے میرے دل کو توڑا
مجھے تُو نے ظالم کہیں کا نہ چھوڑا
عارفانہ کلام منقبت سلام
نہیں کہ صرف ستاروں کے نم تھے نین حسینؑ
ہوائیں بھی تو کئے جارہی تھیں بین حسینؑ
بس اک بار تِری لاش اس پہ تڑپی تھی
پھر اس کے بعد زمیں کو ملا نہ چین حسینؑ
رضائے حق پہ تِرا سارا خاندان لُٹا
ہوا کہیں کوئی غوغا، نہ شور و شین حسینؑ
ملی/قومی گیت/نغمہ
اے پیارے لوگو! سجدے میں جا کے
مانگو دعا یہ خدا سے
خاکِ وطن کو سیراب کر دے
اپنے کرم کی گھٹا سے
کتنی حسیں پیار کی یہ زمیں ہے
اس کا زمانے میں ثانی نہیں ہے
یوں آ رہا ہے آج لبوں پر کسی کا نام
ہم پڑھ رہے ہوں جیسے چھپا کر کسی کا نام
سُنسان یوں تو کب سے ہے کُہسارِ باز دِید
کانوں میں گونجتا ہے برابر کسی کا نام
دی ہم نے اپنی جان، تو قاتِل بنا کوئی
مشہور اپنے دم سے ہے گھر گھر کسی کا نام