عارفانہ کلام منقبت سلام
نہیں کہ صرف ستاروں کے نم تھے نین حسینؑ
ہوائیں بھی تو کئے جارہی تھیں بین حسینؑ
بس اک بار تِری لاش اس پہ تڑپی تھی
پھر اس کے بعد زمیں کو ملا نہ چین حسینؑ
رضائے حق پہ تِرا سارا خاندان لُٹا
ہوا کہیں کوئی غوغا، نہ شور و شین حسینؑ
تِرے لیے جو لکھے تھے خط اہلِ کوفہ نے
چمکتے دن میں چھپی تھی اندھیری رین حسینؑ
قضا کے سامنے کوہِ بقا نظر آیا
نبیﷺ کا لاڈلا، زہرا کا نورِ عین حسینؑ
قتیل جو بھی لیا سانس، جس فضا میں لیا
صدا بس ایک ہی آتی رہی، حسین حسینؑ
قتیل شفائی
No comments:
Post a Comment