عارفانہ کلام منقبت سلام
تو دیکھ لے ہے قافلہ رواں دواں حسینؑ کا
نہ روک پائے گا تُو ذکرِ جاوداں حسینؑ کا
ہے مختصر ، نہیں ہے موت کا جسے کوئی بھی ڈر
یہ انتخابِ کبریاﷻ، ہے کارواں حسینؑ کا
حسین حق کی صوت ہے ، یزیدیت کی موت ہے
یزیدیت کو ڈر ہے بس یہاں وہاں حسینؑ کاؑ
اگر یہ چاہے چشمے سلسبیل کے ابل پڑیں
یہ تین دن کی پیاس تو ہے امتحاں حسینؑ کا
ہے سچ یہی کھرا تو مان یا نہ مان میری جان
خدا کا گھر وہی ہے جو ہے آستاں حسینؑ کا
ہے باضمیر شخص سجدہ ریز بس اسی جگہ
زمین پر قدم پڑا جہاں جہاں حسینؑ کا
ہو کِبریائی سلطنت کا حکمران جب حسنٔ
تو کوئی ہیچ کیسے ہو گا حکمراں حسینؑ کا
ستم گروں کی فوج کو چٹا کے دھول آ گیا
یہ عکسِ مرتضٰیؑ پسر ہے بے زباں حسینؑ کا
عرفان حیدر
No comments:
Post a Comment