Saturday, 17 September 2022

رکھے ہے سر پہ دست مبارک حسینیت

 عارفانہ کلام منقبت سلام


رکھے ہے سر پہ دستِ مبارک، حسینیت

کرتی ہے میرے قلب میں دھک دھک حسینیت

سچا ہوں اس ہجومِ مسالک میں ایک میں

فرقہ حسینیت مِرا مسلک حسینیت

ہاں، اھدنا الصراط کا مصداق ہے یہی

ہاں، راہِ مستقیم ہے بے شک حسینیت

اُٹھو حسینیو! کہ ہے صبحِ ازل سے طے

اونچی رہے گی شامِ ابد تک حسینیت

یلغار ہو نہ کیوں تہہ و بالا غنیم کی

ہر سُو کماں بدست ہے انتھک حسینیت

کوتاہ قامتوں نے تو کیں کوششیں ہزار

لیکن بلند تر لَکَ ذِک٘رَک٘، حسینیت

منظر بنانے میں تُجھے برسوں لگے ہیں اور

منظر پہ چھا گئی ہے یکا یک حسینیت

ورنہ چراغ میں تھیں کہاں اتنی ہمتیں

روشن رکھے خدائے تبارک حسینیت

سچائی ہے زبیر! گوارا کسے یہاں

دیتی ہے اب بھی دار پہ دستک حسینیت


زبیر حمزہ

No comments:

Post a Comment