ستم کے مارے لہو میں ڈوبے ہوئے نظاروں کا کیا کروں گا
سسکتے غنچو! تمہیں بتاؤ میں ان بہاروں کا کیا کروں گا
جنہیں بھروسہ ہو آسماں پر وہ آسماں سے پناہ مانگیں
میں اپنے ذروں سے مطمئن ہوں میں چاند تاروں کا کیا کروں گا
اگر مجھے دے سکے زمانہ تو کچھ نئے زخم اور دے دے
میں غمگساروں کو جانتا ہوں میں غمگساروں کا کیا کروں گا