Showing posts with label ارشد صدیقی. Show all posts
Showing posts with label ارشد صدیقی. Show all posts

Friday, 17 February 2023

ستم کے مارے لہو میں ڈوبے ہوئے نظاروں کا کیا کروں گا

 ستم کے مارے لہو میں ڈوبے ہوئے نظاروں کا کیا کروں گا 

سسکتے غنچو! تمہیں بتاؤ میں ان بہاروں کا کیا کروں گا 

جنہیں بھروسہ ہو آسماں پر وہ آسماں سے پناہ مانگیں 

میں اپنے ذروں سے مطمئن ہوں میں چاند تاروں کا کیا کروں گا 

اگر مجھے دے سکے زمانہ تو کچھ نئے زخم اور دے دے 

میں غمگساروں کو جانتا ہوں میں غمگساروں کا کیا کروں گا 

Friday, 25 June 2021

خواب آنکھوں میں نہیں دل میں تمنا بھی نہیں

 خواب آنکھوں میں نہیں دل میں تمنا بھی نہیں

عشق مایوس ہوا ہو مگر ایسا بھی نہیں

ان کی الفت میں اٹھائے ہیں ہزاروں الزام

آج تک آنکھ اٹھا کر جنہیں دیکھا بھی نہیں

راہ ہستی میں نگاہیں تو بھٹک سکتی ہیں

دل بھٹک جائے مگر اتنا اندھیرا بھی نہیں

Tuesday, 27 April 2021

میخانے پہ چھائی ہے افسردہ شبی کب سے

 میخانے پہ چھائی ہے افسردہ شبی کب سے

ساغر سے گریزاں ہے خود تشنہ لبی کب سے

اے سایۂ گیسو کے دیوانو!! بتاؤ تو

معیار جنوں ٹھہری راحت طلبی کب سے

چوسا ہے لہو جس نے برسوں مہ و انجم کا

انساں کا مقدر ہے وہ تیرہ شبی کب سے

Sunday, 25 April 2021

وہ جس نے میرے دل و جاں میں درد بویا ہے

 وہ جس نے میرے دل و جاں میں درد بویا ہے

کبھی کبھی مِری حالت پہ خود بھی رویا ہے

بڑھے ہوئے تھے مِری سمت کتنے پیار کے ہاتھ

کہاں یہ لا کے تِری یاد نے ڈبویا ہے

جو پھوٹی پلکوں سے کونپل تو جا کے راز کھُلا

کہ اس نے غم نہیں سینے میں زہر بویا ہے

Saturday, 20 March 2021

قلب و نظر کا سکوں اور کہاں دوستو

 قلب و نظر کا سکوں اور کہاں دوستو

کُوئے بُتاں دوستو، کُوئے بُتاں دوستو

میرا ہی دل ہے کہ میں پھرتا ہوں یوں خندہ زن

کم نہیں پردیس میں دل کا زیاں دوستو

جن میں خلوصِ وفا اور نہ شعورِ ستم

مجھ کو بٹھایا ہے یہ لا کے کہاں دوستو

Tuesday, 1 December 2020

فضائیں کیف بہاراں سے جب مہکتی ہیں

 فضائیں کیفِ بہاراں سے جب مہکتی ہیں

تو دل میں چوٹیں تری یاد کی کسکتی ہیں

شفق کے رنگ بھی ان کا جواب لا نہ سکے

کسی کے چہرے پہ جو سرخیاں دمکتی ہیں

جنہیں تمہارا تبسم ملا ہے وہ نظریں

فضا میں نور کے نغمے بکھیر سکتی ہیں

Thursday, 19 November 2020

نہ پیام چاہتے ہیں نہ کلام چاہتے ہیں

 نہ پیام چاہتے ہیں، نہ کلام چاہتے ہیں

مری رات کے اندھیرے ترا نام چاہتے ہیں

جو جگر کو خاک کر دے جو دماغ پھونک ڈالے

مرے پیاسے ہونٹ ایسا کوئی جام چاہتے ہیں

وہ ہو شغل بادہ نوشی کہ طواف کوئے جاناں

غمِ زندگی کے مارے کوئی کام چاہتے ہیں