Showing posts with label تاج رضوی. Show all posts
Showing posts with label تاج رضوی. Show all posts

Wednesday, 14 October 2026

گھنا جنگل ہے جس میں میں فقط تنہا نہیں ہوں

 ستم ظریف


گھنا جنگل ہے جس میں میں فقط تنہا نہیں ہوں

ہزاروں رفتگاں

جن کے نشانِ پا

کہیں مدغم، کہیں واضح

بلا مقصد پڑے ہیں

پڑے بھی اس لیے ہیں کہ نشانِ پا کی قسمت ہی یہی ہے

Thursday, 25 June 2026

ہے میرے گرد یقیناً کہیں حصار سا کچھ

 ہے میرے گِرد یقیناً کہیں حِصار سا کچھ

اور اس کو بھی ہے دُعاؤں پہ اعتبار سا کچھ

کہیں تو گوشۂ دل میں اُمید باقی ہے

کہیں ہے اس کی نظر میں بھی انتظار سا کچھ

کہا جب اس نے کے آنکھوں پہ اعتبار نہ کر

تو میں نے مانگ لیا دل پہ اختیار سا کچھ

Saturday, 27 July 2024

جب جھوٹ راویوں کے قلم بولنے لگے

 جب جھوٹ راویوں کے قلم بولنے لگے

ہر خود سری کو جاہ و حشم بولنے لگے

اک اذن لب کشائی نے بے باک کر دیا

دیکھو کس اعتماد سے ہم بولنے لگے

کوئی کسی سے پوچھ رہا تھا ترا سراغ

اٹھ اٹھ کے میرے نقش قدم بولنے لگے

Wednesday, 24 July 2024

سب مطمئن تھے صبح کا اخبار دیکھ کر

 سب مطمئن تھے صبح کا اخبار دیکھ کر

خائف تھے ہم نوشتۂ دیوار دیکھ کر

منصف گواہ حد ہے کہ مظلوم بک گئے

قیمت لگی جو ظرف خریدار دیکھ کر

میں بوریا نشین غریب الدیار فقیر

حیراں تھا شان و شوکت دربار دیکھ کر

Monday, 5 April 2021

اس حال میں جیتے ہو تو مر کیوں نہیں جاتے

 اس حال میں جیتے ہو تو مر کیوں نہیں جاتے

یوں ٹوٹ چکے ہو تو بکھر کیوں نہیں جاتے

کیسے ہیں یہ ارمان یہ کاوش یہ تگ و دو

منزل نہیں معلوم تو گھر کیوں نہیں جاتے

اشکوں کی طرح کیوں مری پلکوں پہ رکے ہو

خنجر کی طرح دل میں اتر کیوں نہیں جاتے