ستم ظریف
گھنا جنگل ہے جس میں میں فقط تنہا نہیں ہوں
ہزاروں رفتگاں
جن کے نشانِ پا
کہیں مدغم، کہیں واضح
بلا مقصد پڑے ہیں
پڑے بھی اس لیے ہیں کہ نشانِ پا کی قسمت ہی یہی ہے
ستم ظریف
گھنا جنگل ہے جس میں میں فقط تنہا نہیں ہوں
ہزاروں رفتگاں
جن کے نشانِ پا
کہیں مدغم، کہیں واضح
بلا مقصد پڑے ہیں
پڑے بھی اس لیے ہیں کہ نشانِ پا کی قسمت ہی یہی ہے
ہے میرے گِرد یقیناً کہیں حِصار سا کچھ
اور اس کو بھی ہے دُعاؤں پہ اعتبار سا کچھ
کہیں تو گوشۂ دل میں اُمید باقی ہے
کہیں ہے اس کی نظر میں بھی انتظار سا کچھ
کہا جب اس نے کے آنکھوں پہ اعتبار نہ کر
تو میں نے مانگ لیا دل پہ اختیار سا کچھ
جب جھوٹ راویوں کے قلم بولنے لگے
ہر خود سری کو جاہ و حشم بولنے لگے
اک اذن لب کشائی نے بے باک کر دیا
دیکھو کس اعتماد سے ہم بولنے لگے
کوئی کسی سے پوچھ رہا تھا ترا سراغ
اٹھ اٹھ کے میرے نقش قدم بولنے لگے
سب مطمئن تھے صبح کا اخبار دیکھ کر
خائف تھے ہم نوشتۂ دیوار دیکھ کر
منصف گواہ حد ہے کہ مظلوم بک گئے
قیمت لگی جو ظرف خریدار دیکھ کر
میں بوریا نشین غریب الدیار فقیر
حیراں تھا شان و شوکت دربار دیکھ کر
اس حال میں جیتے ہو تو مر کیوں نہیں جاتے
یوں ٹوٹ چکے ہو تو بکھر کیوں نہیں جاتے
کیسے ہیں یہ ارمان یہ کاوش یہ تگ و دو
منزل نہیں معلوم تو گھر کیوں نہیں جاتے
اشکوں کی طرح کیوں مری پلکوں پہ رکے ہو
خنجر کی طرح دل میں اتر کیوں نہیں جاتے