Monday, 5 April 2021

اس حال میں جیتے ہو تو مر کیوں نہیں جاتے

 اس حال میں جیتے ہو تو مر کیوں نہیں جاتے

یوں ٹوٹ چکے ہو تو بکھر کیوں نہیں جاتے

کیسے ہیں یہ ارمان یہ کاوش یہ تگ و دو

منزل نہیں معلوم تو گھر کیوں نہیں جاتے

اشکوں کی طرح کیوں مری پلکوں پہ رکے ہو

خنجر کی طرح دل میں اتر کیوں نہیں جاتے

مانا کہ یہ سب زخم جگر تم نے دئیے ہیں

مرہم سے کسی اور کے بھر کیوں نہیں جاتے

آئینہ ہے، ماحول ہے، اسباب ہیں، تم ہو

خاطر مِری اک بار سنور کیوں نہیں جاتے

بے خود تھے کیا غیر سے وعدہ مجھے منظور

آیا ہے اگر ہوش مُکر کیوں نہیں جاتے

اے تاج امیدوں کے یہ موسم بھی عجب ہیں

ہر رُت کی طرح یہ بھی گزر کیوں نہیں جاتے


حسین تاج رضوی 

No comments:

Post a Comment