Showing posts with label مسعودہ حیات. Show all posts
Showing posts with label مسعودہ حیات. Show all posts

Friday, 2 December 2022

یہ جو رنگین تبسم کی ادا ہے مجھ میں

 یہ جو رنگین تبسم کی ادا ہے مجھ میں

مجھ کو لگتا ہے کوئی میرے سوا ہے مجھ میں

خود بھی حیراں ہوں ازل سے کہ یہ کیا ہے مجھ میں

کون شہ رگ سے مِری بول رہا ہے مجھ میں

عمر بھر جس کو تِرے غم کی امانت سمجھا

اب وہی تارِ نفس ٹوٹ گیا ہے مجھ میں

Friday, 8 October 2021

خوشبو سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

 خوشبو سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

شیشہ کہیں ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

احساسِ محبت سے کسی گوشۂ دل میں

جب چوٹ اُبھر آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

پُر کیف ہوا میں جو کسی پیڑ کے نیچے

آنچل مِرا لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

Tuesday, 5 October 2021

اگرچہ کہنے کو کل کائنات اپنی تھی

 اگرچہ کہنے کو کل کائنات اپنی تھی

حقیقتاً کہاں اپنی بھی ذات اپنی تھی

کہیں تو کس سے کہیں ہم حیات اپنی تھی

نہ کوئی دن تھا ہمارا نہ رات اپنی تھی

کوئی بھی آج تو اپنا نظر نہیں آتا

جو تم تھے اپنے تو کل کائنات اپنی تھی

Monday, 4 October 2021

گھر سے جو شخص بھی نکلے وہ سنبھل کر نکلے

 گھر سے جو شخص بھی نکلے وہ سنبھل کر نکلے

جانے کس موڑ پہ کس ہاتھ میں خنجر نکلے

معجزہ بن گئی کیا آج مِری تشنہ لبی؟

ایک قطرے کے تلے کتنے سمندر نکلے

گر گیا ہو جو فصیلوں کو اٹھا کر خود ہی

کیسے اب اپنے حصاروں سے وہ باہر نکلے

Sunday, 28 March 2021

کوئی تو دل کی نگاہوں سے دیکھتا جائے

 کوئی تو دل کی نگاہوں سے دیکھتا جائے

ہماری روح کے کچھ غم سمیٹتا جائے

تمہارے ملنے کی ہر آس آج ٹوٹ گئی

تمہیں بتاؤ کہ اب کس طرح جیا جائے

ذرا تو سوچیے اس دل کا حال کیا ہو گا

تلاش گُل میں جو پتھر کی چوٹ کھا جائے

Friday, 20 November 2020

نہ راس آئی چمن زار کی فضا مجھ کو

 نہ راس آئی چمن زار کی فضا مجھ کو

مزاجِ برق نے بے گھر بنا دیا مجھ کو

تمام عمر بھٹکتے رہے جو راہوں میں

دکھا رہے ہیں وہی آج راستا مجھ کو

ہجومِ درد میں دل نے تو سب کا ساتھ دیا

ملا نہ اپنے ہی اشکوں کا ہم نوا مجھ کو