یہ جو رنگین تبسم کی ادا ہے مجھ میں
مجھ کو لگتا ہے کوئی میرے سوا ہے مجھ میں
خود بھی حیراں ہوں ازل سے کہ یہ کیا ہے مجھ میں
کون شہ رگ سے مِری بول رہا ہے مجھ میں
عمر بھر جس کو تِرے غم کی امانت سمجھا
اب وہی تارِ نفس ٹوٹ گیا ہے مجھ میں
یہ جو رنگین تبسم کی ادا ہے مجھ میں
مجھ کو لگتا ہے کوئی میرے سوا ہے مجھ میں
خود بھی حیراں ہوں ازل سے کہ یہ کیا ہے مجھ میں
کون شہ رگ سے مِری بول رہا ہے مجھ میں
عمر بھر جس کو تِرے غم کی امانت سمجھا
اب وہی تارِ نفس ٹوٹ گیا ہے مجھ میں
خوشبو سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
شیشہ کہیں ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
احساسِ محبت سے کسی گوشۂ دل میں
جب چوٹ اُبھر آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
پُر کیف ہوا میں جو کسی پیڑ کے نیچے
آنچل مِرا لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
اگرچہ کہنے کو کل کائنات اپنی تھی
حقیقتاً کہاں اپنی بھی ذات اپنی تھی
کہیں تو کس سے کہیں ہم حیات اپنی تھی
نہ کوئی دن تھا ہمارا نہ رات اپنی تھی
کوئی بھی آج تو اپنا نظر نہیں آتا
جو تم تھے اپنے تو کل کائنات اپنی تھی
گھر سے جو شخص بھی نکلے وہ سنبھل کر نکلے
جانے کس موڑ پہ کس ہاتھ میں خنجر نکلے
معجزہ بن گئی کیا آج مِری تشنہ لبی؟
ایک قطرے کے تلے کتنے سمندر نکلے
گر گیا ہو جو فصیلوں کو اٹھا کر خود ہی
کیسے اب اپنے حصاروں سے وہ باہر نکلے
کوئی تو دل کی نگاہوں سے دیکھتا جائے
ہماری روح کے کچھ غم سمیٹتا جائے
تمہارے ملنے کی ہر آس آج ٹوٹ گئی
تمہیں بتاؤ کہ اب کس طرح جیا جائے
ذرا تو سوچیے اس دل کا حال کیا ہو گا
تلاش گُل میں جو پتھر کی چوٹ کھا جائے
نہ راس آئی چمن زار کی فضا مجھ کو
مزاجِ برق نے بے گھر بنا دیا مجھ کو
تمام عمر بھٹکتے رہے جو راہوں میں
دکھا رہے ہیں وہی آج راستا مجھ کو
ہجومِ درد میں دل نے تو سب کا ساتھ دیا
ملا نہ اپنے ہی اشکوں کا ہم نوا مجھ کو