Monday, 4 October 2021

گھر سے جو شخص بھی نکلے وہ سنبھل کر نکلے

 گھر سے جو شخص بھی نکلے وہ سنبھل کر نکلے

جانے کس موڑ پہ کس ہاتھ میں خنجر نکلے

معجزہ بن گئی کیا آج مِری تشنہ لبی؟

ایک قطرے کے تلے کتنے سمندر نکلے

گر گیا ہو جو فصیلوں کو اٹھا کر خود ہی

کیسے اب اپنے حصاروں سے وہ باہر نکلے

رہبرو! تم نے تو منزل کا پتا بھی نہ دیا

تم سے بہتر تو مِری راہ کے پتھر نکلے

عمر بھر ذہن میں چُبھتا رہا اک نشترِ غم

جتنے احساس تھے، سب میرا مقدر نکلے

تم سے چھوڑی نہ گئی راہِ وفا پھر بھی حیات

کتنے بے درد ملے، کتنے ستم گر نکلے


مسعودہ حیات

No comments:

Post a Comment