میری بخشش کا وہ سامان نہ ہونے دیں گے
ایک کافر کو مسلمان نہ ہونے دیں گے
اک منافق کی طرح آپ بسے ہیں دل میں
یعنی پورا کوئی ارمان نہ ہونے دیں گے
یاد کر لیں گے تجھے گاہے بگاہے جاناں
ہجر کو ہم کبھی آسان نہ ہونے دیں گے
لوگ کرتے ہیں تجارت جو بنامِ مذہب
وہ مکمل مِرا ایمان نہ ہونے دیں گے
شہر کے لوگ بہت تنگ ہیں تجھ سے حاکم
اب یہ جاری تِرا فرمان نہ ہونے دیں گے
اپنے اجداد سے ہم نے یہ کیا ہے وعدہ
ان کے خوابوں کو پشیمان نہ ہونے دیں گے
دشت و صحرا میں جنوں لاکھ گھمائے حمزہ
چاک لیکن یہ گریبان نہ ہونے دیں گے
حمزہ بلال
No comments:
Post a Comment