Monday, 4 October 2021

میری بخشش کا وہ سامان نہ ہونے دیں گے

 میری بخشش کا وہ سامان نہ ہونے دیں گے

ایک کافر کو مسلمان نہ ہونے دیں گے

اک منافق کی طرح آپ بسے ہیں دل میں

یعنی پورا کوئی ارمان نہ ہونے دیں گے

یاد کر لیں گے تجھے گاہے بگاہے جاناں

ہجر کو ہم کبھی آسان نہ ہونے دیں گے

لوگ کرتے ہیں تجارت جو بنامِ مذہب

وہ مکمل مِرا ایمان نہ ہونے دیں گے

شہر کے لوگ بہت تنگ ہیں تجھ سے حاکم

اب یہ جاری تِرا فرمان نہ ہونے دیں گے

اپنے اجداد سے ہم نے یہ کیا ہے وعدہ

ان کے خوابوں کو پشیمان نہ ہونے دیں گے

دشت و صحرا میں جنوں لاکھ گھمائے حمزہ

چاک لیکن یہ گریبان نہ ہونے دیں گے


حمزہ بلال

No comments:

Post a Comment