کھل کے سچائی کا اظہار نہیں کر سکتے
ہم جو کرتے ہیں وہ اخبار نہیں کر سکتے
زندگی تیرا تقاضا ہے کہ سرپٹ دوڑیں
ہم وہ لاچار کہ انکار نہیں کر سکتے
ان کو حق ہے کہ وہ انکار بھی کر سکتے ہیں
ہم پہ قدغن ہے کہ اصرار نہیں کر سکتے
سب کے سب مل کے مِرے سامنے صف آرا ہیں
کام ایسا ہے کہ دو چار نہیں کر سکتے
تجھ سے اک کام ہے اور کام بھی ایسا ہے کہ جو
چشم و ابرو لب و رُخسار نہیں کر سکتے
ہم نے اک عمر کیا ان پہ بھروسا مظہر
ہم وہی کام لگاتار نہیں کر سکتے
مظہر سید
No comments:
Post a Comment