Monday, 4 October 2021

کھل کے سچائی کا اظہار نہیں کر سکتے

 کھل کے سچائی کا اظہار نہیں کر سکتے

ہم جو کرتے ہیں وہ اخبار نہیں کر سکتے 

زندگی تیرا تقاضا ہے کہ سرپٹ دوڑیں 

ہم وہ لاچار کہ انکار نہیں کر سکتے 

ان کو حق ہے کہ وہ انکار بھی کر سکتے ہیں 

ہم پہ قدغن ہے کہ اصرار نہیں کر سکتے 

سب کے سب مل کے مِرے سامنے صف آرا ہیں 

کام ایسا ہے کہ دو چار نہیں کر سکتے 

تجھ سے اک کام ہے اور کام بھی ایسا ہے کہ جو 

چشم و ابرو لب و رُخسار نہیں کر سکتے 

ہم نے اک عمر کیا ان پہ بھروسا مظہر

ہم وہی کام لگاتار نہیں کر سکتے 


مظہر سید

No comments:

Post a Comment