نظر سے جام پیہم پی رہا ہوں
عجب عالم ہے جس میں جی رہا ہوں
گزر آیا جنوں کی منزلوں سے
اب اپنے چاکِ دل کو سی رہا ہوں
خوشا قسمت غرورِ عشق بن کر
نگاہوں میں خود اپنی ہی رہا ہوں
نظر سے جام پیہم پی رہا ہوں
عجب عالم ہے جس میں جی رہا ہوں
گزر آیا جنوں کی منزلوں سے
اب اپنے چاکِ دل کو سی رہا ہوں
خوشا قسمت غرورِ عشق بن کر
نگاہوں میں خود اپنی ہی رہا ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تذکرہ آپﷺ کا گفتگو آپﷺ کی
زندگی بن گئی آرزو آپﷺ کی
جتنی سیرت نظر سے گُزرتی گئی
اور بڑھتی گئی جُستجو آپﷺ کی
آپ ہر دو جہاں پر ہیں چھائے ہوئے
حُسن مہتاب میں، گُل میں بُو آپﷺ کی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لے چلو مجھ کو طیبہ خدا کے لیے
دل پریشان ہے مصطفیٰؐ کے لیے
اک تجلّی ادھر بھی برائے کرم
کاسۂ چشم وا ہے ضیاء کے لیے
آپؐ کا ذکر ہے، آپؐ کا نام ہے
ابتداء کے لیے، انتہاء کے لیے
جبر کرتے ہیں صبر کرتے ہیں
ہم نہ مرنے کی طرح مرتے ہیں
اشک نادیدنی ہیں آنکھوں میں
آہ ناگفتنی سی بھرتے ہیں
مُدعا کوئی حل نہیں ہوتا
بات کرنے کو زور کرتے ہیں