Sunday, 5 April 2026

عجب عالم ہے جس میں جی رہا ہوں

 نظر سے جام پیہم پی رہا ہوں

عجب عالم ہے جس میں جی رہا ہوں

گزر آیا جنوں کی منزلوں سے

اب اپنے چاکِ دل کو سی رہا ہوں

خوشا قسمت غرورِ عشق بن کر

نگاہوں میں خود اپنی ہی رہا ہوں

مجھے حیرت ہے اپنی زندگی پر

کہ تم سے دور رہ کر جی رہا ہوں

تیری محفل میں ہوں اب اجنبی سا

کبھی محفل کی رونق بھی رہا ہوں

وہ ساغر بھر کے مجھ کو دے رہے ہیں

سرور و کیف و مستی پی رہا ہوں

فدا میں کیا ہوں، میری زندگی کیا

کسی کا نام لے کر جی رہا ہوں


فدا خالدی دہلوی

No comments:

Post a Comment