Saturday, 18 April 2026

تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھ

 تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھ

سایہ بھی میرے ساتھ رہا روشنی کے ساتھ

روشن ہوا نہ کوئی دریچہ مِرے بغیر

اک ربط خاص رکھتا ہوں میں اس گلی کے ساتھ

دو دن کی زندگی میں بھی دھڑکا تھا حشر کا

کرتے رہے گناہ مگر بے دلی کے ساتھ

میں بے عمل تھا فرد عمل کیسے بن گئی

کیسا مذاق ہے یہ مِری بے بسی کے ساتھ

میں اس کو چھوڑ سکتا ہوں طاہر نہ وہ مجھے

اک زندگی بندھی ہے مِری زندگی کے ساتھ


طاہر تلہری

No comments:

Post a Comment