تنہائی مل سکی نہ گھڑی بھر کسی کے ساتھ
سایہ بھی میرے ساتھ رہا روشنی کے ساتھ
روشن ہوا نہ کوئی دریچہ مِرے بغیر
اک ربط خاص رکھتا ہوں میں اس گلی کے ساتھ
دو دن کی زندگی میں بھی دھڑکا تھا حشر کا
کرتے رہے گناہ مگر بے دلی کے ساتھ
میں بے عمل تھا فرد عمل کیسے بن گئی
کیسا مذاق ہے یہ مِری بے بسی کے ساتھ
میں اس کو چھوڑ سکتا ہوں طاہر نہ وہ مجھے
اک زندگی بندھی ہے مِری زندگی کے ساتھ
طاہر تلہری
No comments:
Post a Comment