Tuesday, 14 April 2026

تنہا تھے ہم نہ دور نہ کوئی قریب تھا

 تنہا تھے ہم نہ دور نہ کوئی قریب تھا

کشتی کے ڈوبنے کا بھی منظر عجیب تھا

سوچا تھا جیت لوں گا محبت کی قربتیں

لیکن کہاں میں اِتنا بڑا خوش نصیب تھا

آیا تیری گلی میں تو جنت میں آ گیا

نکلا تو یوں لگا کہ جہنم نصیب تھا

یہ صرف تیرے سوزِ محبت کا تھا اثر

شاعر نہیں تھا کوئی نہ کوئی ادیب تھا

یاروں پہ کیا لگائیں خیانت کی تہمتیں

بزمِ وفا میں دل ہی ہمارا رقیب تھا

دنیا نے ہی کیا ہمیں نفرت سے آشنا

ورنہ عدو بھی اپنی نظر میں حبیب تھا

ساحل کی آرزو بھی نظر میں نہ آسکی

ٹوٹی ہوئی تھی کشتی، سمندر مہیب تھا

ملنا بڑا محال تھا اس شوخ سے مرا

جتنا تھا وہ رئیس میں اتنا غریب تھا

ہر گام پر تھیں بھول بھلیاں کھلی ہوئیں

نقشہ تمہارے شہر کا کتنا عجیب تھا

یا میں جواب دینے کی جرأت نہ کرسکا

یا آپ کا سوال عجیب و غریب تھا


عبدالستار مفتی

No comments:

Post a Comment