Sunday, 26 April 2026

مردے ہیں سب یہاں نہ یہاں پر صدا کرو

 اچھے لگو گے اور بھی اتنا کیا کرو

آنکھوں کو میری اپنے لیے آئینہ کرو

وعدے وفا کیے نہ کبھی تم نے جانِ جاں

دل پھر بھی چاہتا ہے کہ وعدہ نیا کرو

رہ کر تمہارے پاس بھی رہتا ہوں میں کہاں

مِل جاؤں پھر سے تم کو بس اتنی دعا کرو

یہ دور اشتہار ہے گر کچھ نہ کر سکو

خود اپنے منہ سے تم میاں مٹھو بنا کرو

اس دشت بے حِسی میں سُنے گا تمہاری کون

مُردے ہیں سب یہاں نہ یہاں پر صدا کرو


طارق رشید درویش

No comments:

Post a Comment