Thursday, 16 April 2026

تیری یہ بے رخی اب نہ سہ پاؤں گی

 خلش


تیری یہ بے رخی

اب نہ سہ پاؤں گی

ہے گِلہ گر کوئی

تو بتا دے ذرا

موڑ کر منہ نہ بول

بے رخی سے تِری

مر نہ جاؤں کہیں

جی رہی ہوں فقط میں

تیرے نام پر

بس تِری آس پر

تُو سمجھ نہ سکا

مگر اب تلک

ہے محبت مجھے

میری دھڑکن ہے تُو

کیا کروں میں گلہ

تیری کیا ہے خطا

پیار تُو نے نہیں

پیار میں نے کیا


طلعت پروین

No comments:

Post a Comment