خلش
تیری یہ بے رخی
اب نہ سہ پاؤں گی
ہے گِلہ گر کوئی
تو بتا دے ذرا
موڑ کر منہ نہ بول
بے رخی سے تِری
مر نہ جاؤں کہیں
جی رہی ہوں فقط میں
تیرے نام پر
بس تِری آس پر
تُو سمجھ نہ سکا
مگر اب تلک
ہے محبت مجھے
میری دھڑکن ہے تُو
کیا کروں میں گلہ
تیری کیا ہے خطا
پیار تُو نے نہیں
پیار میں نے کیا
طلعت پروین
No comments:
Post a Comment