ہم ہوئے حق کے اگر خوگر، تماشا ہو گئے
پتھروں میں آئینہ بن کر تماشا ہو گئے
تیرگی میں دور تک پھیلی ہوئی ہے ایسی روشنی
بستیوں میں میرے جلتے گھر تماشا ہو گئے
ہو گئے حیران سب ہی دیکھ کر میری اڑان
شاہ بازوں میں مرے شہپر تماشا ہو گئے
دوست بھی ملتے ہیں سب ہم سے رقیبوں کی طرح
آپ کی محفل میں ہم آ کر تماشا ہو گئے
ہم رہے پردیس میں جس گھر کی خاطر مدتوں
اپنے اس گھر کے ہی سب منظر تماشا ہو گئے
ہے ہمارے ہی لیے تاجِ ملامت ہر طرف
جیسے دنیا میں ہمارے سر تماشا ہو گئے
ہے چمکتے پتھروں کا ہی زمانہ اے ظفر
آج سارے بے بہا گوہر تماشا ہو گئے
ظفر مرادآبادی
No comments:
Post a Comment