Sunday, 26 April 2026

کھول کر آنکھ تو سونے سے رہے

 کھول کر آنکھ تو سونے سے رہے

اب کسی اور کے ہونے سے رہے

آپ نے پاس تو رکھا تھا ، مگر

آپ کے پاس کھلونے سے رہے

کیا بتائیں کہ کسی یاد میں ہم

 اتنا روئے ہیں کہ رونے سے رہے

کیوں نہ ہم تمغہ بنا لیں ان کو

داغ یہ عشق کے دھونے سے رہے

دیکھنا چھوڑ دی تیری تصویر

 روز آنکھوں کو بھگونے سے رہے


رفعت جبیں

No comments:

Post a Comment