کھول کر آنکھ تو سونے سے رہے
اب کسی اور کے ہونے سے رہے
آپ نے پاس تو رکھا تھا ، مگر
آپ کے پاس کھلونے سے رہے
کیا بتائیں کہ کسی یاد میں ہم
اتنا روئے ہیں کہ رونے سے رہے
کیوں نہ ہم تمغہ بنا لیں ان کو
داغ یہ عشق کے دھونے سے رہے
دیکھنا چھوڑ دی تیری تصویر
روز آنکھوں کو بھگونے سے رہے
رفعت جبیں
No comments:
Post a Comment