Tuesday, 21 April 2026

محو جمال یار کو فرصت بندگی نہیں

 محوِ جمالِ یار کو فُرصتِ بندگی نہیں 

اُس کے حُضور بندگی کُفر ہے بندگی نہیں 

عشق کی رسم و راہ کا اس کو شعور ہی نہیں 

کُفر کی بارگاہ میں جس کی جبیں جُھکی نہیں 

وہ بھی میرے فراق میں میری طرح ہے مضطرب

بچھڑے زمانہ ہو گیا، درد میں کچھ کمی نہیں 

تیرے حریمِ ناز کا اس کو مِلا نہ راستہ

جس کی سیاہ رات میں اشکوں کی روشنی نہیں 

یادِ حبیب کے بغیر جتنا بھی وقت ہم جیے

اتنا ہی وقت بے گُماں شاملِ زندگی نہیں 

شمعِ شبِ فراق سے حالِ علیم پُوچھ لے

تُو نے لگائی تھی جو آگ تیری قسم بُجھی نہیں

 

علیم اللہ صفی چشتی نظامی

No comments:

Post a Comment