Wednesday, 29 April 2026

ایسے تعمیر اٹھا دی میں نے

 ایسے تعمیر اُٹھا دی میں نے

پہلی دیوار گِرا دی میں نے

مجھ سے پُوچھا گیا میرا مسلک

تیری تصویر بنا دی میں نے

کوئی دیکھے نہ مِرا نظارہ

ایک چِلمن سی گِرا دی میں نے

راکھ کا ڈھیر ہوا ہے وہ بھی

آگ ایندھن کو لگا دی میں ںے

راہ میں دوست مجھے چھوڑ گئے

پھر توقع ہی مِٹا دی میں نے

کیا ہوا ڈُوب گیا ہے خورشید

کوئی قندیل جلا دی میں نے

جب مِرا بھائی مقابل آیا

اپنی تلوار گِرا دی میں نے

مجھ کو انصاف ملے یا نہ ملے

شب کو زنجیر ہلا دی میں نے


رشید سندیلوی

No comments:

Post a Comment