Saturday, 18 April 2026

یہ بہت آساں ہے سب پر تبصرا کرتے رہو

 یہ بہت آساں ہے سب پر تبصرا کرتے رہو

بات تو جب ہے کہ اپنا سامنا کرتے رہو

ہر نفس پر زندگی کا حق ادا کرتے رہو

روز مرنا ہے تو جینے کی دعا کرتے رہو

ہر قدم پر منزلیں آواز دیں گی خود تمہیں

شرط یہ ہے اپنے ہونے کا پتا کرتے رہو

کیا ضروری ہے نہ مانو دل کی کوئی بات بھی

اچھا لگتا ہے کبھی دل کا کہا کرتے رہو

ہے یہی رسم محبت تو چلو یوں ہی سہی

ہم وفا کرتے رہیں اور تم جفا کرتے رہو

آتے جاتے موسموں کا رنگ نظروں میں رہے

کون منظر کس طرح ہے تجزیہ کرتے رہو

پھر یزید عصر کے اب ہاتھ میں تلوار ہے

پھر حسین ابن علی کا تذکرہ کرتے رہو


شبنم نقوی

No comments:

Post a Comment