اک جنگل میں سرِ شام سُنایا جاؤں
گِیت بن کے تِری آواز میں گایا جاؤں
رات کی طرح سمندر پہ بچھایا جاؤں
شہر کو دن کی طرح روز سنایا جاؤں
ہر مسافت کے اُفق تک میں بلایا جاؤں
پھر اسی راہ سے واپس تو نہ لایا جاؤں
کُفر کا شہر زمیں دوز ہوں، ڈھایا جاؤں
اک فلک بوس کلیسا ہوں، گِرایا جاؤں
یہ تو چاہوں گا کہ معبود بنایا جاؤں
کارنس پر ہی نہ لیکن میں سجایا جاؤں
سنگِ بے چشم ہوں کس طرح رُلایا جاؤں
میں فقط خاک کیا جاؤں، اُڑایا جاؤں
پہلے ہر مُمٹی پہ ہنستا میں دِکھایا جاؤں
چار سُو پھر کہیں موجود نہ پایا جاؤں
عبدالقیوم صبا
No comments:
Post a Comment