Monday, 20 April 2026

تیری اک نگاہ کی قیمت میری زندگی نہیں ہے

 تیری اک نگاہ کی قیمت میری زندگی نہیں ہے

تیرے اس کرم کا بدلہ میری بندگی نہیں ہے

جو نہ جاں پہ کھیل جائے وہ نہ اس طرف کو آئے

کہ دیارِ عاشقی میں رہِ واپسی نہیں ہے

تیرے حسن کی پرستش میرا مشربِ طریقت

یہ ہے دینِ پاک بازاں کوئی کافری نہیں ہے

کوئی مستِ چشم ساقی کوئی ہے شہیدِ غمزہ

ہر بادہ کش کی حالت یہاں ایک سی نہیں ہے

رہے عمر بھر بھٹکتے وہ نہ ظلمتوں سے نکلے

تیرے آفتابِ رخ کی جہاں روشنی نہیں ہے

ہے شراب عشق ساقی غمِ دو جہاں کا درماں

اے علیم اس سے بہتر کوئی میکشی نہیں ہے


علیم اللہ صفی چشتی نظامی

No comments:

Post a Comment