Tuesday, 21 April 2026

آگ میں جو تپایا جاتا ہوں

 آگ میں جو تپایا جاتا ہوں

زر خالص بنایا جاتا ہوں

قصر ہی قصر ہیں خداؤں کے

کس طرف کو بہایا جاتا ہوں

بارش سنگ سرخ جاری ہے

میں مسلسل نہایا جاتا ہوں

خرچ ہونا ہے لازمی مجھ کو

ابھی کچھ کچھ بچایا جاتا ہوں

اک اشارہ کہیں سے ہوتا ہے

میں سرا سر نچایا جاتا ہوں

شاخ پھل دار سا میں جھکتا ہوں

اور کہیں پر جھکایا جاتا ہوں

آتش و آب و باد و خاک اسد

جانے کیا کیا بتایا جاتا ہوں


طارق اسد

No comments:

Post a Comment