آگ میں جو تپایا جاتا ہوں
زر خالص بنایا جاتا ہوں
قصر ہی قصر ہیں خداؤں کے
کس طرف کو بہایا جاتا ہوں
بارش سنگ سرخ جاری ہے
میں مسلسل نہایا جاتا ہوں
خرچ ہونا ہے لازمی مجھ کو
ابھی کچھ کچھ بچایا جاتا ہوں
اک اشارہ کہیں سے ہوتا ہے
میں سرا سر نچایا جاتا ہوں
شاخ پھل دار سا میں جھکتا ہوں
اور کہیں پر جھکایا جاتا ہوں
آتش و آب و باد و خاک اسد
جانے کیا کیا بتایا جاتا ہوں
طارق اسد
No comments:
Post a Comment