جیسے بھی بچ رہی تھی بچا لی، چلے گئے
دستار کو اٹھایا،۔ سنبھالی، چلے گئے
دن تھے اہم بہت کہ نمو پا رہا تھا میں
کِن موسموں میں باغ کے مالی چلے گئے
چہرہ تھا نیند میں بھی عجب روشنی بھرا
سو ہم بھی چھُو کے کان کی بالی، چلے گئے
آنکھوں میں تیرنے لگی وہ آخری جھلک
جب خاک اس کے چہرے پہ ڈالی، چلے گئے
اچھے دنوں میں سایہ مِرے ساتھ ساتھ تھا
بدلے جو دن مِرے تو موالی چلے گئے
کس کی دعا تھی مجھ کو مِری جان بچ گئی
قاتل کے سارے وار ہی خالی چلے گئے
نشتر بدست سب کی کمانیں تھیں سرفراز
ہم نے بھی چال ڈھال سنبھالی چلے گئے
عبداللہ حیدر بٹ
No comments:
Post a Comment