کسی کے دُکھ سے نہ کر سُکھ کشید توبہ کر
ابھر نہ وقت کا بن کر یزید، توبہ کر
فصیلِ ذات سے باہر نکل کہ یہ دُنیا
تِرے بھرم سے ہے مطلق بعید، توبہ کر
نِگاہِ شوق کو جلوے سے یوں نہ رکھ محروم
ہے شرک جرأتِ انکارِ دِید توبہ کر
کہ نظمِ میکدہ رِندوں کی تاب لا نہ سکے
بڑھا نہ تشنگی اتنی شدید، توبہ کر
جو نظم و نثر کا ہے فرق اس کو قائم رکھ
ادب کی کر نہ یوں مٹی پلید، توبہ کر
جہانِ نو میں عجائب گھروں کی زینت ہیں
تمام غازی، تمامی شہید، توبہ کر
نجات کے لیے مہلت بچی ہے کم اب اور
نہ کر ضمیر کی بیع و خرید، توبہ کر
عبدالسلام عاصم
No comments:
Post a Comment