Wednesday, 29 April 2026

اس قدر تلخ نہ ہو خام خیالی نہ سمجھ

 اس قدر تلخ نہ ہو خام خیالی نہ سمجھ

ظلِ سبحانی مِرے طنز کو گالی نہ سمجھ

ہو بھی سکتا ہے کوئی قرض چُکانے والا

در پہ آیا ہوا ہر شخص سوالی نہ سمجھ

شدتِ اشکِ تپاں کو نظر انداز نہ کر

چشم خونناب کو چائے کی پیالی نہ سمجھ

دم کیا ہے اسے، دہقان نے پھونکا ہوا ہے

خاک کو شہد کی تاثیر سے خالی نہ سمجھ

گال سکتی ہے فلک آہِ تپیدہ قاسم

اس دہکتی ہوئی بھٹی کو کٹھالی نہ سمجھ


جاوید قاسم

No comments:

Post a Comment