اب مکیں اور ہیں گھر بار پرانا ہی ہے
بس حوالے نئے ہیں پیار پرانا ہی ہے
روز گھڑیال میں تاریخ بدل جاتی ہے
صبح کی میز پہ اخبار پرانا ہی ہے
رنگ موسم کے تغیر سے اڑا چہرے کا
دل مرے جسم میں سرکار پرانا ہی ہے
تیرے چہرے کی طلب سارے زمانے کو ہے
تیری خوشبو کا خریدار پرانا ہی ہے
رخ کہانی نے بدل رکھا ہے عرفان میاں
دل کی اسٹیج پہ فنکار پرانا ہی ہے
عرفان محبوب
No comments:
Post a Comment