Friday, 24 April 2026

اے میرے وقت مصیبت کی انیس

 اپنی بیگم صاحبہ کے نام منظوم خط


میری بیوی اے مِرے دل کا سرور 

میری عزت اور میرے گھر کا نور 

اے میرے آرام و راحت کی جلیس 

اے میرے وقتِ مصیبت کی انیس 

تجھ کو بخشے ہیں خدا نے وہ صفات 

تیرے دم سے رونق بزمِ حیات 

دینداری تیری مشہورِ انام 

اور صداقت تیری ایک عادت کا نام 

مکر سے تیرا تدبر پاک ہے

 تیرے آگے کِذب رو بر خاک ہے 

جب زمانہ میرا دشمن ہو گیا 

ایک تجھ میں تھا خلوصِ بے ریا 

دن برے لائے تھے جب تقدیر نے 

دستگیری کی تِری تدبیر نے 

میری خاطر ہوش کھونا یاد ہے 

تیرا راتوں کو نہ سونا یاد ہے 

دامنِ خاکی کو زر سے بھر دیا 

میرے ویرانے کو گلشن کر دیا 

پہلے حق نے اور تقدیر نے 

پھر تیرے ہی ناخنِ تدبیر نے 

بادۂ الفت کا ایک پیمانہ ہے 

تُو اطاعت کیش ہے فرزانہ ہے 

تجھ کو رکھے گا خدا ہر وقت شاد 

اور تیری بر لائے گا ہر ایک مراد 


نواب بہادر یار جنگ

اصل نام؛ محمد بہادر خان

تخلص؛ خلق

No comments:

Post a Comment