Sunday, 26 April 2026

گماں فصیل کا یاروں کو اپنے قد پر ہے

 گماں فصیل کا یاروں کو اپنے قد پر ہے

مگر یہ شہر ہوائے ستم کی زد پر ہے

ہجومِ خلق کو سمجھے ہجوم سایوں کا

وہ ایک شخص فریبِ نظر کی حد پر ہے

کرن کرن کے بدن میں ہیں وحشتیں لرزاں

کہ اب کے جشنِ چراغاں کسی لحد پر ہے

مِری بشارتِ لب سے چراغ جلتے ہیں

مِری نواؤں کا شبخُوں ضمیرِ بد پر ہے

عدیل ذہن ہمارا ہے منعکس اُس میں

وہ ایک کرب کا عالم جو خال و خد پر ہے


اشرف عدیل

No comments:

Post a Comment