گماں فصیل کا یاروں کو اپنے قد پر ہے
مگر یہ شہر ہوائے ستم کی زد پر ہے
ہجومِ خلق کو سمجھے ہجوم سایوں کا
وہ ایک شخص فریبِ نظر کی حد پر ہے
کرن کرن کے بدن میں ہیں وحشتیں لرزاں
کہ اب کے جشنِ چراغاں کسی لحد پر ہے
مِری بشارتِ لب سے چراغ جلتے ہیں
مِری نواؤں کا شبخُوں ضمیرِ بد پر ہے
عدیل ذہن ہمارا ہے منعکس اُس میں
وہ ایک کرب کا عالم جو خال و خد پر ہے
اشرف عدیل
No comments:
Post a Comment