Wednesday, 29 April 2026

خواب دیکھا ہے نہ آنکھوں میں جنوں دیکھا ہے

  خواب دیکھا ہے نہ آنکھوں میں جنوں دیکھا ہے

میری وحشت نے فقط حال زبوں دیکھا ہے

تم نے دیکھی ہی نہیں گاؤں کی پُر شور فضا

تم نے بس شہر کی گلیوں کا سکوں دیکھا ہے

یہ بتا آنکھ میں حیرت اُتر آئی کیسے؟

یہ نہ سمجھا کہ مجھے پیار سے کیوں دیکھا ہے

جیسے مہتاب اُلجھتا ہے رواں لہروں سے

میں نے جاتے ہوئے تالاب کو یوں دیکھا ہے

درِ افلاک تو اس وقت کُھلا ہے مجھ پر

نِیتِ عجز سے جب اپنے دروں دیکھا ہے

ہو گیا نقش بہ دیوار وہی شخص صہیب

اس کی آواز کا جس نے بھی فسُوں دیکھا ہے


 سید صہیب ہاشمی

No comments:

Post a Comment