خواب دیکھا ہے نہ آنکھوں میں جنوں دیکھا ہے
میری وحشت نے فقط حال زبوں دیکھا ہے
تم نے دیکھی ہی نہیں گاؤں کی پُر شور فضا
تم نے بس شہر کی گلیوں کا سکوں دیکھا ہے
یہ بتا آنکھ میں حیرت اُتر آئی کیسے؟
یہ نہ سمجھا کہ مجھے پیار سے کیوں دیکھا ہے
جیسے مہتاب اُلجھتا ہے رواں لہروں سے
میں نے جاتے ہوئے تالاب کو یوں دیکھا ہے
درِ افلاک تو اس وقت کُھلا ہے مجھ پر
نِیتِ عجز سے جب اپنے دروں دیکھا ہے
ہو گیا نقش بہ دیوار وہی شخص صہیب
اس کی آواز کا جس نے بھی فسُوں دیکھا ہے
سید صہیب ہاشمی
No comments:
Post a Comment