کرب در پردۂ طرب ہے ابھی
مسکراہٹ بھی زیر لب ہے ابھی
ہیں پریشاں حیات کے گیسو
نہ کرو ذکر صبح شب ہے ابھی
مل تو سکتا ہے آدمی میں خدا
آدمی آدمی ہی کب ہے ابھی
کس قدر کامیاب ہے انساں
بھوک ہی موت کا سبب ہے ابھی
زندگی تشنگی میں تھی سرشار
ہو کے سرشار تشنہ لب ہے ابھی
اک ہوس ہے کہ قہقہہ پرواز
اک محبت کہ جاں بہ لب ہے ابھی
مٹ گئے فاصلے خلاؤں کے
رنگ ہے نسل ہے نسب ہے ابھی
خود نمائی کے وہم کا ابہام
نام کے ساتھ اک لقب ہے ابھی
سب جو پایا ہے آج کچھ بھی نہیں
کچھ جو کھویا تھا کل وہ سب ہے ابھی
ہر نظر اک سوال ہے عامر
ہر نفس فیصلہ طلب ہے ابھی
عامر موسوی
No comments:
Post a Comment