Wednesday, 15 April 2026

کرب در پردۂ طرب ہے ابھی

 کرب در پردۂ طرب ہے ابھی

مسکراہٹ بھی زیر لب ہے ابھی

ہیں پریشاں حیات کے گیسو

نہ کرو ذکر صبح شب ہے ابھی

مل تو سکتا ہے آدمی میں خدا

آدمی آدمی ہی کب ہے ابھی

کس قدر کامیاب ہے انساں

بھوک ہی موت کا سبب ہے ابھی

زندگی تشنگی میں تھی سرشار

ہو کے سرشار تشنہ لب ہے ابھی

اک ہوس ہے کہ قہقہہ پرواز

اک محبت کہ جاں بہ لب ہے ابھی

مٹ گئے فاصلے خلاؤں کے

رنگ ہے نسل ہے نسب ہے ابھی

خود نمائی کے وہم کا ابہام

نام کے ساتھ اک لقب ہے ابھی

سب جو پایا ہے آج کچھ بھی نہیں

کچھ جو کھویا تھا کل وہ سب ہے ابھی

ہر نظر اک سوال ہے عامر

ہر نفس فیصلہ طلب ہے ابھی


عامر موسوی

No comments:

Post a Comment