گھماؤ وقت کا جب ٹھیک کرنے آیا تھا
میں ایک سائے پہ تحقیق کرنے آیا تھا
شعور ماپتا اک خواب میری وحشت سے
تمہارے ہجر کی تصدیق کرنے آیا تھا
بُرا بھلا نہ کہو! روشنی کے مُنکر کو
یہ کائنات کی توثیق کرنے آیا تھا
اسی لیے میں رہا ٭ماء و طین کے مابین
تمام رنگوں میں تفریق کرنے آیا تھا
نقوش باختہ دریا پہ نظم کیسے کہی؟
اگر وہ آئینہ تخلیق کرنے آیا تھا
میں اپنے جسم کی اول زباں سمجھتا ہوں
سو ان پرندوں سے تطبیق کرنے آیا تھا
پھر اُس کا سامنا فطرت کے فاصلے سے ہوا
جو کُن کی ثقل کو نزدیک کرنے آیا تھا
عامر ابیض
٭ماء و طین: آب و گِل، پانی اور مٹی
No comments:
Post a Comment