آپ کا نامۂ والا پہنچا
رنج میں عیش دوبالا پہنچا
گھونٹ پیاسے کے گلے سے اترا
منہ میں بھوکے کے نوالا پہنچا
نوک دم بھاگیں نہ کیوں کر افکار
ترکتازوں کا رسالا پہنچا
باغ باغ اپنا ہے دل مضموں سے
باغِ عشرت کا قبالا پہنچا
اپنے نالے کا اثر ہے شاید
کان تک آپ کے تالا پہنچا
سید محمد عبدالغفور شہباز
No comments:
Post a Comment