Tuesday, 14 April 2026

آپ کا نامۂ والا پہنچا

 آپ کا نامۂ والا پہنچا

رنج میں عیش دوبالا پہنچا

گھونٹ پیاسے کے گلے سے اترا

منہ میں بھوکے کے نوالا پہنچا

نوک دم بھاگیں نہ کیوں کر افکار

ترکتازوں کا رسالا پہنچا

باغ باغ اپنا ہے دل مضموں سے

باغِ عشرت کا قبالا پہنچا

اپنے نالے کا اثر ہے شاید

کان تک آپ کے تالا پہنچا


سید محمد عبدالغفور شہباز

No comments:

Post a Comment